عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن ( آئبا) کے بیس سال تک صدر رہنے والے پروفیسرانور چوہدری نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی باکسرز کی کامیابیاں ان کے اثرورسوخ کی مرہون منت رہی ہیں۔
حالیہ ایشین گیمز میں حصہ لینے والے دس میں سے کوئی ایک پاکستانی باکسر بھی تمغہ حاصل نہ کرسکا۔ اس مایوس کن کارکردگی کے بعد اس تاثر نے زور پکڑا ہے کہ ماضی میں پاکستانی باکسرز پروفیسرانورچوہدری کی وجہ سے تمغے جیتنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں اور اب جب وہ آئبا کے صدر نہیں رہے تو پاکستانی باکسرز کے لیے تمغوں کا حصول آسان نہ ہوگا۔
پروفیسرانورچوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے کہ وہ پاکستانی باکسرز کو تمغے دلواتے رہے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو آئبا کے صدر کی حیثیت سے ان کے بیس سالہ دور میں پاکستانی باکسرز اولمپکس میں طلائی اور نقرئی تمغے ضرور حاصل کرتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اولمپکس جیسے بڑے مقابلے میں پاکستانی باکسروں کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔
آئبا کے سابق صدر نے کہا کہ اگر انہوں نے پسند ناپسند کی پالیسی اختیار کی ہوتی تو وہ کسی صورت میں امیچر باکسنگ کو محفوظ اور نتائج کو شفاف بنانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ سکورنگ اور اسپائی کیمرے وغیرہ متعارف نہ کراتے۔
پروفیسرانورچوہدری کو اس بات پر تشویش ہے کہ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کی باگ ڈور سنبھالنے والے عہدیدار پسند ناپسند کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بین الاقوامی باکسنگ پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔