http://bbc.com.im/urdu/

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کرکٹ: فتوحات اور تنازعات کا سال

سال2006 پاکستانی کرکٹ کے لیے ہنگامہ خیز رہا۔ میدان میں تو کارکردگی عمدہ رہی لیکن تنازعات نے بھی سارا سال گھیرے رکھا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پیش آنے والے تنازعات میں ’اوول ٹیسٹ‘ سر فہرست رہا۔ آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کی جانب سے بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کئے جانے کے بعد کپتان انضمام الحق ٹیم کو میدان سے باہر لے گئے تھے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کھیل کا وقار خراب کرنے کے الزام کے تحت انضمام الحق پر چار ون ڈے میچ کھیلنے پر پابندی عائد کردی اور پھر بعد میں اس تنازعہ کے اہم کردار ڈیرل ہیئر کو امپائروں کے ’ایلیٹ پینل‘ سے باہر کر دیا گیا۔

اوول ٹیسٹ تنازعہ کے بعد ایک اور طوفان نے پاکستانی ٹیم کو گھیرے میں لے لیا۔ چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت روانگی سے قبل یونس خان نے یہ کہہ کر ٹیم کی قیادت کرنے سے انکار کر دیا کہ انہیں ’ڈمی‘ کپتان بننا گوارا نہیں۔

پی سی بی کے نئے سربراہ نے آتے ہی محمد یوسف کو کپتانی سے ہٹاکر دوبارہ یونس خان کو کپتان مقرر کردیا۔ نسیم اشرف نے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بڑھتےہوئے مذہبی رجحان کے بارے میں ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا، جس پر انہیں نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ خود کپتان انضمام الحق کے شدید ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی کرکٹ ان مسائل سے چھٹکارہ حاصل نہ کرپائی تھی کہ ڈوپنگ سکینڈل سامنے آیا۔ بیرسٹر شاہد حامد کی سربراہی میں قائم اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے مرتکب شعیب اختر اور محمد آصف پر بالترتیب دو اور ایک سال کی پابندی عائد کردی۔

تاہم جسٹس( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں قائم اپیلٹ ٹریبونل نے دونوں کھلاڑیوں کو اس ڈوپنگ کے الزام سے بری کر دیا۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی واڈا نے دونوں بالرز کو بری کیے جانے کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی ٹیم بھارت سے ہوم گراؤنڈ پر سیریز ہاری۔ روایتی حریفوں کے درمیان ابوظہبی میں دو ون ڈے میچوں کی سیریز برابر رہی۔انگلینڈ میں جیتی ہوئی سیریز برابری پر ختم ہوئی البتہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز سے سیریز پاکستان کے نام رہی۔

چیمپئنز ٹرافی میں حالات پاکستانی ٹیم کے خلاف رہے۔سری لنکا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد اسے نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے یہ محمد یوسف کا سال رہا جنہوں نے کیلنڈرایئر میں سب سے زیادہ سنچریوں اور مجموعی رنز بنانے کے نئے عالمی ریکارڈز قائم کیے۔