Wednesday, 13 December, 2006, 14:26 GMT 19:26 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ایشین گیمز میں ہاکی کے سیمی فائنل میں چین کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر سابق کھلاڑیوں نے ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
لیکن ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ نا تجربہ کار ٹیم کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کے ہاتھوں شکست کو غیر متوقع نہیں کہا جا سکتا۔
سابق کپتان اور کوچ حنیف خان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک نئی ٹیم کے ساتھ ایشین گیمز میں حصہ لیا اور نئے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔
سابق گول کیپر احمد عالم بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ پاکستانی ہاکی اس شکست سے ختم نہیں ہوگئی، لیکن وہ چین کے ہاتھوں شکست کی وجہ ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پنلٹی کارنر کے ماہر عمران وارثی کو میچ کھیلنے والے پہلے گیارہ کھلاڑیوں میں شامل کرنے کی بجائے ایکسٹرا ٹائم میں میدان میں اتارا گیا۔
احمد عالم کا کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ کا تقرر، جس میں مینیجر اور کوچ وغیرہ شامل ہوتے ہیں، طویل المدتی ہونا چاہیے کیونکہ چند ماہ کے لیے مقرر کیے گئے اہلکار یہ کہہ کر آسانی سے جان چھڑوا لیتے ہیں کہ انہیں ’وننگ کمبینیشن‘ بنانے کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ پول میچ میں بھارت اور پھر سیمی فائنل میں پاکستان کو ہراکر چین نے واقعی حیران کر دیا ہے۔