Saturday, 25 November, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
ایران نے بین الاقوامی فٹ بال کے منتظم ادارے فیفا کی طرف سے ایران پر پابندی کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ فیفا نے ایران کی بین الاقوامی فٹ بال میں شمولیت پر پابندی اس الزام کی بنیاد پر لگائی ہے کہ ایرانی حکومت کھیل میں بے جا مداخلت کرتی ہے۔
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فیفا کی پابندی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اس کے بقول ایران ہی کے چند ملک دشمن لوگ فیفا کو غلط معلومات پہنچا رہے ہیں۔
فیفا کی اس پابندی سے ایرانی فٹ بال کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ اب ایرانی فٹ بال ٹیم قطر کے شہر دوحہ میں ایشیائی کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکے گی اور نہ ہی اسے اگلے سال ایشیائی کپ کے فائنل مقابلوں میں کھیلنے دیا جائے گا۔ ایران نے حال ہی میں ایشیائی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر پابندی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایرانی کھلاڑی ذاتی طور پر بھی دوسرے ممالک میں جا کر نہیں کھیل سکتے۔
فیفا کی پابندی کے بعد ایران میں سب سے مقبول کھیل بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر احمدی نژاد نے ایرانی فٹ بال کو اس بحران سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن فیفا نے ان کی بات نہیں مانی۔ قومی میڈیا کا کہنا ہے کہ فیفا نے یہ پابندی اپنے سیاسی عزائم کے پیشِ نطر لگائی ہے۔
ایرانی فٹ بال فیڈریشن اور فیفا کے درمیان تعلقات نے اس وقت کشیدگی اختیار کی جب حکومت نے دو ہزار چھ کے عالمی کپ میں ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ سے فیڈریشن کے سربراہ کو معطل کر دیا تھا۔
اس کے علاوہ فیفا پچھلے چار سال سے ایرانی فیڈریشن پر زور دے رہی تھی کہ وہ اپنے قوانین میں تبدیلی کرکے ایک غیر حکومتی ادارے کی شکل اختیار کرے۔ اس ضمن میں تین ماہ قبل ایرانی فیڈریشن کو آخری وارننگ بھی دی گئی۔
ایرانی فیڈریشن کے موجودہ سربراہ نے معطل ہونے والے سابق سربراہ پر فیفا کو غلط معلومات دینے کا الزام لگایا ہے جبکہ سابق سربراہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔