Thursday, 23 November, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ ملتان
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق ملتان ٹیسٹ ڈرا ہونے پر مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل صورتحال سے بچ نکلتے ہوئے میچ کو برابری پر ختم کرنے سے انہیں اعتماد ملا ہے اور یہ اعتماد کراچی ٹیسٹ میں ان کے بہت کام آئے گا۔
انضمام الحق کے مطابق ٹیم کے مورال کے لیے اس میچ کا ڈرا ہونا بہت ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ اس وکٹ پر بولرز کو بڑی تگ ودو کرنی پڑی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے دن ان کا خیال تھا کہ چوتھے اور پانچویں دن وکٹ سپن لے گی اور گیند اوپر نیچے رہے گی لیکن اس پر ویسٹ انڈیز کو کسی قسم کا فائدہ حاصل نہ ہوا۔ ان کےخیال میں وکٹ ایسی ہونی چاہیئے جس پر میچ فیصلہ کن ہو۔
پاکستانی کپتان نے تسلیم کیا کہ میچ کے پہلے سیشن میں تین وکٹیں گرجانے سے وہ فکر مند تھے۔ وہ ٹیم کے لیے مشکل وقت تھا لیکن انہیں امید تھی کہ محمد یوسف اپنی شاندار کارکردگی سے میچ بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ محمد یوسف اور عبدالرزاق نے انتہائی شاندار بیٹنگ کی۔
پاکستانی کپتان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہونے کے باوجود آپ کے لیے مشکلات پیدا کردیں تو انہوں نے کہا کہ وہ رینکنگ پر یقین نہیں کرتے۔ ویسٹ انڈیز کی موجودہ کارکردگی کو کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا وہ اسوقت بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔
انضمام الحق نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فیلڈنگ میں بہتری کی ضرورت ہے۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان سے جب ان کی اپنی بیٹنگ کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ اس سیریز میں وہ ابھی تک بڑی اننگز نہیں کھیل پائے ہیں وہ ٹیم میں بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلتے ہیں اور انہیں رنز بنانے چاہیں اور وہ کراچی ٹیسٹ میں اپنی ناکامی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرینگے۔
ملتان کی وکٹ کے بارے میں لارا نے کہا کہ پہلے دن سے آخر تک یہ بیٹنگ کے لیے سازگار رہی جس پر پہلے سیشن یا پھر نئی گیند کے ساتھ بولرز کو مدد ملی لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس طرح کی وکٹوں کے حق میں نہیں ہیں جہاں کھلاڑیوں خاص کر بولرز کی مہارت سامنے نہ آسکے۔
برائن لارا کے لیے اس سیریز میں تشویش کا ایک پہلو فیلڈنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کو مستقبل قریب میں بہت کرکٹ کھیلنی ہے جن میں ورلڈ کپ جیسا اہم ایونٹ بھی شامل ہے اور انہیں فیلڈنگ کے معیار کو بہتر کرنا ہوگا کیونکہ کیچ میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز نےاپنے آخری چوبیس ٹیسٹ میچوں میں صرف دو جیتے ہیں جبکہ سولہ میں اسے شکست ہوئی ہے اور چھ ڈرا ہوئے ہیں۔