Wednesday, 15 November, 2006, 08:48 GMT 13:48 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
اینٹی ڈوپنگ اپیل ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی طور بھی ٹریبونل پر اثرانداز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ ایسا چاہتا ہے۔
جسٹس( ریٹائرڈ ) فخرالدین جی ابراہیم نے بدھ کو لاہور میں شعیب اختر اور محمد آصف کی اپیلوں کی سماعت20 نومبر تک ملتوی ہونے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین خاص کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی خواہش ہے کہ یہ معاملہ جلد سے جلد نمٹادیا جائے لیکن اس کا انحصار وکیلوں پر ہے کہ انہیں اپنی صفائی میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر اور محمد آصف کی اپیلوں کی سماعت کے لیے انگلینڈ کے ممتاز وکیل مارک گے کی خدمات حاصل کرلی ہیں جو اوول ٹیسٹ تنازع میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تھے۔
مارک گے کی خدمات حاصل کرنے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ فریق بن گیا ہے۔
اس بارے میں جب جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم سے سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کردیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی صورت میں بھی ٹریبونل پر اثرانداز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کو معاونت کی ضرورت ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے اسے یہ معاونت فراہم کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ٹریبونل کا اپنا ہوگا اس بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی کی ضرورت نہیں ہے۔
اپیل ٹربیونل |
بدھ کو شعیب اختر اپنے وکیل عابدحسن منٹو اور محمد آصف اپنے وکیل آفتاب گل کے ساتھ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔
شعیب اختر کے وکیل نے کیس کی تیاری کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے چند دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کیا جس پر ٹریبونل نے کرکٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ انہیں فراہم کردیئے جائیں گے۔
اپیل ٹریبونل میں جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم کے علاوہ سابق ٹیسٹ کرکٹر حسیب احسن اور ڈاکٹر دانش ظہیر بھی شامل ہیں۔