عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستانی ٹیم کےکپتان انضمام الحق کی لاہور ٹیسٹ جیتنے پر خوشی بجا ہے۔ فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے نہ ہونے کے بعد مبصرین اور تجزیہ نگار پاکستانی ٹیم، خاص کر اس کی بالنگ کے بارے میں زیادہ پرامید دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن ان دونوں بالرز کے بغیر بھی پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کی بیس وکٹیں حاصل کرکے لاہور ٹیسٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
میچ کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کی سیکنڈ الیون تھی تو انضمام الحق نے اس کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ انہوں نے ٹیسٹ جیتا ہے۔
انضمام الحق اس بات پر بھی مطمئن ہیں کہ ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر انحصار کرنے کی سوچ سے باہر نکل چکی ہے اور اس نے نہ صرف اچھی کارکردگی بھی دکھائی ہے بلکہ میچز بھی جیتے ہیں۔
پاکستانی کپتان کہتے ہیں کہ پہلے دن ویسٹ انڈیزکو کم سکور پر آؤٹ کرنے سے میچ پر ان کی گرفت مضبوط ہوگئی تھی جس کے بعد محمد یوسف نے شاندار اننگز کھیلی اور شعیب ملک اور کامران اکمل نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی۔
ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا یہ مانتے ہیں کہ بہت زیادہ ون ڈے کرکٹ کھیل کر ٹیسٹ میں خود کو ایڈجسٹ کرنا آسان نہیں ہے لیکن اسے وہ شکست کا جواز نہیں سمجھتے۔
مین آف دی میچ عمرگل کو خوشی ہے کہ وہ ٹیم کے اعتماد پر پورے اترے۔ ان کا کہنا ہےکہ ان پر کوئی غیرضروری پریشر نہیں تھا۔ عمرگل نے اسی میدان پر بھارت کے خلاف عمدہ بولنگ کی تھی تاہم وہ وکٹ زیادہ سپورٹنگ تھی۔
مستقبل کے بارے میں عمر گل کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدت کے منصوبے نہیں بناتے لیکن تادیر پاکستان کے لیئے ضرور کھیلنا چاہتے ہیں۔