http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 12 November, 2006, 13:22 GMT 18:22 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

محمد یوسف وکٹ سے ناخوش

لاہور ٹیسٹ میں شاندار سنچری بنانے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے باریش بیٹسمین محمد یوسف کہتے ہیں کہ آج کل انٹرنیشنل کرکٹ سیدھی وکٹوں پر کھیلی جارہی ہے اس طرح کی وکٹوں کے وہ قطعاً حامی نہیں ہیں۔

محمد یوسف سے جب پوچھا گیا کہ ویسٹ انڈین فاسٹ بولر جیروم ٹیلر کا کہنا ہے کہ قذافی سٹیڈیم کی وکٹ میں تیز بالرز کے لیئے کوئی مدد نہیں ہے تو تجربہ کار مڈل آرڈر بیٹسمین نے کہا کہ دس بارہ سال سے ہر جگہ اسی طرح کی وکٹوں پر کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔

محمد یوسف نے کہا کہ وہ بیٹسمین ہونے کے باوجود ایسی وکٹوں کی حمایت نہیں کرتے۔ ’وکٹ ایسی ہونی چاہیئے جس پر بیٹسمین اور بالر دونوں کو مدد ملے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وکٹ پر گھاس چھوڑ دی جائے۔ گراسی وکٹ پر کوئی بھی نہیں کھیل سکتا البتہ باؤنسی وکٹ ہونے میں کوئی ہرج نہیں ہے‘۔

چیمپئنز ٹرافی میں موہالی کی وکٹ کے بارے میں محمد یوسف کا کہنا ہے کہ اس وکٹ پر کوئی بھی رنز نہیں کرسکتا تھا۔ ان کی جیک کیلس سے بات ہوئی تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ایسی وکٹ انہوں نے ٹیسٹ میچ میں بھی نہیں دیکھی۔

کس وکٹ پر کھیلنے میں مزا آتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں محمد یوسف برسبین کا نام لیتے ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی سے قبل کپتانی دے کر واپس لیئے جانے کے بارے میں محمد یوسف کہتے ہیں کہ ان کا کام کرکٹ کھیلنا ہے چاہے وہ کپتان ہوں یا نہ ہوں۔

محمد یوسف کی سنچری ایک ایسے وقت میں بنی جب پاکستان کی چار وکٹیں گرچکی تھیں جن میں انضمام الحق کا صفر پر آؤٹ ہونا بھی شامل تھا لیکن وہ چھ سال قبل برج ٹاؤن ٹیسٹ میں بنائی گئی سنچری کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اس اننگز میں بھی پاکستانی ٹیم چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔