Tuesday, 07 November, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ اگر شعیب اختر ڈوپنگ کیس میں سزا کی معیاد کم کروانے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو ان کا بالنگ کیرئر ختم ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا صرف شعیب کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیئے ایک مشکل کام ہوگا جس کی عمر تیس سال سے زائد ہے اور وہ کھیل کے میدان سے دور ہو اور پھر وہ دوبارہ کھیلنا شروع کرے۔
ان کا کہنا تھا’میں جانتا ہوں کہ آسٹریلیا کے شین وارن کی عمر زیادہ تھی مگر ان پر صرف ایک سال کی پابندی لگائی گئی جو کسی بھی سپنر کے لیئے مشکل نہیں ہے‘۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ڈوپنگ کمیشن کی جانب سے تیز رفتار بالر شعیب اختر پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے الزامات کے بعد دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
شعیب کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جانی باقی ہے۔ شعیب کے ساتھ محمد آصف پر بھی ممنوعہ ادویات کے استعمال کے خلاف ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
![]() | |
| انضمام کا کہنا تھا کہ آصف اور شعیب کی عالمی کپ میں شرکت مشکوک ہے |
بگ سٹار کرکٹ ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر اپنے کالم میں انضمام الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ٹیسٹوں کے مثبت ہونے کی وجہ پاکستان میں ڈوپنگ کے ایشوز پر معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ بہت ہی مشکل بات ہے کہ پاکستان میں اس قسم کے اشیوز کو سمجھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں کوئی شعور نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات استعمال کیں۔ آصف نے تو خاص طور پر ڈوپنگ پر دیے جانے والے کسی لیکچر میں بھی شرکت نہیں کی ہے‘۔
انضمام کا کہنا تھا کہ ’ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی سیریز سے قبل دونوں کھلاڑیوں پر لگائے جانے والی یہ پابندی پاکستان ٹیم کے لیئے ایک بہت بڑا نقصان ہے‘۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز اس ہفتے شروع ہو رہی ہے جبکہ پاکستان اگلے سال جنوبی افریقہ کا دورہ بھی کرے گا۔
’ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے لیئے ٹیم کو صف اول کے بالروں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ وکٹیں لینے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ اب بالنگ کے میدان میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے‘۔
انضمام کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹیم کے پاس صف اول کے دو ہی بالرز ہیں جن میں دانش کنیریا اور عمر گل شامل ہیں جبکہ محمد سمیع میں اعتماد کی کمی کے باوجود ایک فاسٹ بالر کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔