http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 03 November, 2006, 13:04 GMT 18:04 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

قومی مفاد کا خیال کریں: توقیر ضیاء

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ ’ڈوپنگ کیس‘ میں شعیب اختر اور محمد آصف پر لگنے والی پابندی سے انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شعیب کی سزا اگر اپیل کے بعد بھی برقرار رہتی ہے تو یہ ان کے کیرئیر کا اختتام ہو گا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ شعیب نے اپنے کیرئیر کے اس دور میں جان بوجھ کر کوئی ممنوعہ دوا لی ہوگی۔ ’لیکن اگر اس نے ایسا کچھ کیا ہے تو وہ ایک بے وقوف انسان ہے‘۔

توقیر ضیاء جب پی سی بی کے چیئرمین تھے تو شعیب اختر کو ان کا چہیتا کھلاڑی تصور کیا جاتا تھا اور انہیں اس دور میں کافی مراعات بھی حاصل تھیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ شعیب اور آصف کو اس سے کم مدت کی سزا اور کچھ جرمانہ کر دیا جاتا تو دونوں فاسٹ بالرز ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کو دستیاب ہوتے۔

توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ کیرئیر کے آغاز میں ہی ڈوپنگ جیسے مسئلے میں سزاوار ہونا آصف کے لیے کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن توقیر ضیاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ پابندی کے خلاف اپیل میں آصف کی سزا کم یا ختم ہو سکتی ہے کیونکہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہیں ممنوعہ ادویات کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔

کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ نظم و ضبط اپنی جگہ لیکن شعیب اور آصف کی اپیل پر فیصلہ قومی مفاد کو مد نظر رکھ کے کرنا ہوگا کیونکہ عالمی کپ میں ٹیم کو ان دونوں کھلاڑیوں کی بہت ضرورت ہے۔ ’پاکستان کے پاس ان جیسے سٹرائیک بالرز نہیں ہیں‘۔

توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار پی سی بی کہ وہ اہلکار بھی ہیں جو پچھلے تین سال کے عرصہ میں مزید اچھے بالرز متعارف کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے خیال میں شاہد نذیر اور یاسر عرفات ’آزمائے ہوئے گھوڑے‘ ہیں، جن پر انحصار کر کے ورلڈ کپ نہیں جیتا جا سکتا۔