http://bbc.com.im/urdu/

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’راولپنڈی ایکسپریس پٹڑی سے اترگئی‘

فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کی پاداش میں عائد پابندی کی خبر کو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

خبر پر لوگوں کا ردعمل

روزنامہ جنگ نے یہ خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی ہے ’ممنوعہ قوت بخش دواؤں کا استعمال، شعیب اور محمد آصف ایک سال کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے‘۔

دی نیوز نے یہ سرخی لگائی ہے۔
Rawalpindi Express derailed

روزنامہ ایکسپریس نے لکھا ہے’شعیب اختر اور محمد آصف پر انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے دروازے بند‘۔ اخبار نے مزید لکھا ہے ’پنڈی ایکسپریس پٹڑی سے اترگئی۔کریئر ختم ہونے کا امکان‘۔
اخبار ڈان کی سرخی ہے۔

Dope-tainted Shoaib,Asif banned

انگریزی اور اردو کے علاوہ سندھی اخبارات نے بھی صفحہ اول پر شعیب اور آصف پر عائد پابندی کی خبر کو جگہ دی ہے۔

شعیب اختر پر دوسال اور محمد آصف پر ایک سال کی پابندی کے فیصلے پر عام شہریوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک دکاندار محمد عمران کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے یہ بڑا نقصان ہے۔ پان فروش محمد صدیق کہتے ہیں کہ دونوں بولرز کو دواؤں کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے تھی ان کے کئے کی سزا ٹیم کو بھگتنی پڑرہی ہے۔

فرنیچر کا کاروبار کرنے والے محمد عمران کے مطابق ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کو ان دونوں بولرز کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ گارمنٹس فیکٹری کے سپروائزر فیصل واحد کا کہنا ہے کہ شعیب اختر ہمیشہ سے مسئلہ بنے رہے ہیں اور اس تازہ ترین صورتحال نے پاکستانی کرکٹ کو مشکل سے دوچار کردیا ہے۔