Thursday, 02 November, 2006, 14:42 GMT 19:42 PST
اشعر رحمٰن
لاہور
پچھلے برس جب محمد آصف کرکٹ کے سٹیج پر نمودار ہوئے تو بہت سوں کا خیال تھا کہ شعیب اختر کو ان کا من چاہا ساتھی مل گیا ہے۔ وہ بالنگ پارٹنر جو ان کے ساتھ دوسرے end سے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھ سکے۔
شعیب بارہا ایک قابل پارٹنر کی عدم موجودگی کا شکوہ کرتے سنائی دیئے تھے اور بظاہر محمد آصف میں وہ خصوصیات موجود تھیں جو ایک اچھے فاسٹ بالر کو ایک بہترین فاسٹ بالر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
آگے کے واقعات بتاتے ہیں کہ محمد آصف کی شعیب اختر کے ساتھ رفاقت گراؤنڈ میں پروان چڑھنے سے پہلے کلینکس اور حکیموں کے مطب میں پروان چڑھی اور پھر شاید ہمیشہ کے لیے دم توڑ گئی۔ نیم حکیم خطرۂ ٹیم قافیہ درست ہوتے ہوتے بہت نقصان ہو گیا۔ دوسرے End سے پہلے The End آ گیا۔ اخبارات کی شعیب جوئی اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔
لوگ ناراض ہیں۔ اس ناراضگی کی وجوہات بے شمار ہیں۔ کوئی اس لیے ناراض ہے کہ دنیا کے تمام قوانین کا نزلہ ہمیشہ پاکستان پر ہی کیوں گرتا ہے۔ کوئی اس بات پر خفا ہے کہ ان ذی ہوش، بالغ پاکستانیوں کو کیا اتنا بھی نہیں پتہ تھا کہ کونسی دوا ممنوعہ ادویات کے زمرے میں آتی ہے۔ یا یہ کہ کونسی ممنوعہ دوا کو کس طرح استعمال کرنا ہے تاکہ استعمال کرنے والا پکڑا نہ جائے۔
حتیٰ کہ سرفراز نواز جو اپنے دو ٹوک تبصروں کے لیے مشہور ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو غیر متوقع قرار دے رہے ہیں۔
کچھ لوگوں کی رائے میں دیگر باتوں کے علاوہ کھیل کے کرتا دھرتا افراد کو ایک کھلاڑی کی اب تک کی کارکردگی کے ساتھ اس کے مستقبل کی متوقع پرفارمنس کو بھی ذہن میں رکھ کر اسے اس کی کسی کوتاہی یا جرم کی سزا دینی چاہیئے۔
شعیب اختر کی لوگوں میں مقبولیت، ان کی نظر میں ان کو کڑی سزا سے بچا سکتی تھی۔ مگر یہ محض ایک خیال فام ثابت ہوا۔ شہرت نہ شین وارن کے کام آئی نہ شعیب کے۔ وارن ممنوعہ ادویات کو استعمال کرنے کی پاداش میں ایک سال کی پابندی بھگت چکے ہیں۔
ساتھ ساتھ ایک سوچ یہ بھی تھی کہ پاکستان بورڈ شعیب اور آصف دونوں کے لیے کچھ ایسا نسخہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جس سے یہ دونوں بالرز اپنے کیے کی سزا بھی پا لیں گے اور اگلے برس ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو دستیاب بھی ہو جائیں گے۔ یوں بھی نہ ہوا اور جو ہوا اس کی مختلف تاویلات اب بازار میں عام دستیاب ہیں۔
شعیب اور آصف کو دی گئی سزا سے قطع نظر، یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ حکیموں اور نیم ڈاکٹروں سے استفادہ حاصل کرنے والے اور اپنے ڈولے دکھانے والے ہزاروں نوجوانوں کو ممنوعہ ادویات کے استعمال سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کو ایک مثال کی بہرحال ضرورت تھی۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس مثال کا عوام کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
فی الحال یہ طے ہے کہ پاکستانی کرکٹ کی صحت اس وقت خاصی خراب ہے۔ الزام تراشی سے لے کر بال تراشی تک کا ایک سلسلہ ہے جو اوول سے شروع ہو کر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اور درمیان میں ایسے ایسے سخت مقامات آئے ہیں کہ اچھی کارکردگی تو کُجا، ہماری ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت ہی ایک کارنامے سے کم نہیں ہو گی۔