عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
اینٹی ڈوپنگ ٹریبونل میں فاسٹ بولر شعیب اختر کی پیروی کرنے والے ڈاکٹرنعمان نیاز نے دو سالہ پابندی کے فیصلے کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شعیب اختر کو شک کا فائدہ ملنا چاہیئے تھا۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کو جو سزا دی گئی ہے اگرچہ وہ قانون کے مطابق ہے لیکن طبی بنیادوں پر ان کا کیس بہت مضبوط تھا اور کئی مواقع ایسے آئے جب انہیں محسوس ہوا کہ شعیب اختر کو کلیئر کیا جاسکتا ہے تاہم اب وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرینگے۔
ڈاکٹرنعمان نیاز کے مطابق نینڈرولون ایک ایسا ’اینابولک اسٹرائیڈ‘ یا ’پروہارمون‘ ہے جو انسانی جسم میں بغیر دوا کے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
ممنوعہ ادوایات |
انہوں نے اس بارے میں ایشیائی اور سیاہ فاموں پر تحقیق ہی نہیں کی ہے جبکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایشیائی مردوں میں ’نینڈرولون‘ کی مقدار چھ سے آٹھ نینوگرام کی مقدار پائی گئی ہے اور اب واڈا بھی اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ دس نینوگرام کی مقدار کو نارمل حد قرار دے دیا جائے۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ضرورت سے زیادہ ورزش کرنے سے بھی جسم میں اسٹرائیڈ پیدا ہوسکتا ہے اور یہ مقدار 6ء14گرام سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
’پروٹین سپلیمنٹ‘ کے بارے میں ڈاکٹر نعمان نیاز نے بتایا کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی اور کسی دوسرے ادارے نے ابھی تک انہیں ممنوعہ قرار نہیں دیا ہے۔
واڈا کی اپنی تحقیق کے مطابق دنیا میں684 پروٹین سپلیمنٹس دستیاب ہیں جن کا ٹیسٹ کرایا گیا ان میں سے184 میں190 نینوگرام ’نینڈرلون‘ کی مقدار پائی گئی جبکہ ان کے ڈبوں پر لگے لیبل پر یہ دعوی تھا کہ اس میں یہ موجود نہیں ہے۔
کشتے کے بارے میں ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ پاکستان میں کشتہ عام ہے یہ بھی پروہارمون ہے اور اس پر پابندی نہیں۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کارکردگی بڑھانے کے لیے قوت بخش ممنوعہ ادویات استعمال کرتا ہے تو وہ نینڈرولون کو انجکشن کی صورت میں اپنے جسم میں داخل کرے گا اس صورت میں اسے پورا کورس کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں اس کے جسم میں ’نینڈرولون‘ کی مقدار14 نہیں بلکہ 114 نینوگرام آنی چاہئے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈوپنگ سے متعلق لیکچر میں شرکت کی تھی لیکن اس میں ’پروٹین سپلیمنٹ‘ پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔