http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 02 November, 2006, 10:36 GMT 15:36 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

ڈوپنگ کی سزا پر انضمام کو افسوس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ فاسٹ بالرز شعیب اختر اور محمد آصف کے خلاف ڈوپنگ کمیٹی کا فیصلہ کافی سخت فیصلہ ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک دو دن تک یہ دونوں اپیل دائر کریں گے تو اس میں ان کی سزا میں کچھ کمی آ جائے۔

انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اور پاکستان ٹیم کے لیے ایک مشکل وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ٹیم کو تو ظاہر ہے کہ نقصان پہنچے گا لیکن مجھے ان کھلاڑیوں کے کے لیے زیادہ افسوس ہے کہ اس فیصلے سے ان کے کرکٹ کیرئر کو شدید نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے ان دواؤں کا استعمال کیا بلکہ یہ دونوں کچھ عرصے سے فٹنس کے مسائل سے دوچار تھے اور خود کو جلدی فٹ کرنے کے لیے اور کرکٹ میں جلد واپسی کے لیے انہوں نے کسی کے مشورے سے ایسی دوا کھا لی ہو گی۔

انضمام نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں ان کی کمی شدت سے محسوس ہو گی کیونکہ ٹیسٹ میچ میں خاص طور پر سٹرائک بالرز کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر اپیل میں ان کھلاڑیوں کی سزا کم نہ ہو سکی اور یہ عالمی کپ میں شرکت نہ کر سکے تو کیا عالمی کپ تک ان کا متبادل تیار کیا جا سکتا ہے اس ضمن میں انضمام الحق نے کہا کہ عالمی کپ میں اب زیادہ وقت نہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ اتنے کم عرصے میں شعیب اور آصف جیسے بالرز تیار کیے جا سکیں۔

مستقبل میں کسی بھی ایسے ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے انضمام الحق کا پاکستان کی کرکٹ ٹیم ، اے ٹیم اور انڈر 19 ٹیم کے کھلاڑیوں کو صرف ایک مشورہ ہے کہ کسی بھی دوا کو لینے سے پہلے ٹیم کے فزیو تھراپسٹ اور ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں بلکہ کوشش یہ کریں کہ کسی بھی تکلیف میں ٹیم ڈاکٹر ہی سے دوا لیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے بچنے کے لیے کسی لمبی چوڑی ورکشاپس کی ضرورت نہیں البتہ کھلاڑیوں کو یہ ضرور آگاہی دینی چاہیئے کہ کارکردگی بڑھانے والی کسی بھی دوا کا صرف نقصان ہوتا ہے۔

اس سے پہلے انضمام الحق نے بدھ کو قذافی سٹیڈیم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل یہ سمجھتی ہے کہ اوول ٹیسٹ میں ہونے والے واقعے کے پیچھے میچ فکسنگ کارفرما ہے تو اسے اس کی تحقیق ضرور کروانی چاہیئے۔

پاکستان کی ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی ٹیم کی ناقص کارکردگی کو تحفظ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ٹیم بہت برا نہیں کھیلی، انہوں نے سری لنکا کو شکست دی اور جہاں تک جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کا تعلق ہے اس وکٹ پر کوئی بھی ٹیم دوسری اننگز کھیلتی تو اس کا وہی حال ہوتا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے خلاف پاکستان کی ٹیم کا کیمپ، جو پہلے تین نومبر کو شروع ہونا تھا اب سات سے دس نومبر تک لگایا جائے گا انضمام الحق نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ٹیم کافی عرصے سے لگاتار ون ڈے میچ کھیل رہی تھی اور اسے ٹیسٹ میچ کی پریکٹس درکار تھی اس لیے یہ پی سی بی کا اچھا فیصلہ ہے کہ کھلاڑیوں کو پیٹرنز ٹرافی کا چار روزہ میچ کھیلنے کے لیے کہا گیا ہے اس سے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میچ کی پریکٹس کا موقع مل جائے گا۔

انضمام نے کہا کہ چونکہ ٹیم کو صرف تین دن کا کیمپ مل رہا ہے اس لیے کیمپ کے کھلاڑیوں کی بجائے پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان ہو گا جو اس کیمپ میں تربیت حاصل کریں گے۔

انضمام کے اس بیان سے کچھ دیر پہلے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئر مین نسیم اشرف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سلیکشن کمیٹی بیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرے گی۔