Thursday, 02 November, 2006, 07:04 GMT 12:04 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر و کوچ شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ ڈسپلن پاکستانی ہاکی کا بڑا مسئلہ رہا ہے اور ہاکی فیڈریشن چھ سات سال سے سینئر کھلاڑیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی ہے۔
شہناز شیخ کی نگرانی میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کی تیاری شروع کردی ہے۔ بدھ سے کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان سٹیڈیم میں شروع ہونے والے قومی کیمپ میں پانچ سینئر کھلاڑی محمد ثقلین، سہیل عباس، محمد وسیم، غضنفرعلی اور دلاورحسین شامل نہیں ہیں یہ پانچوں کھلاڑی اسوقت بیرون ملک لیگ ہاکی کھیلنے میں مصروف ہیں۔
غورطلب بات یہ ہے کہ سہیل عباس اور محمد وسیم جنہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے معافی مانگ کر ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ہاکی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی ورلڈ کپ کے بعد فیڈریشن کو بتائے بغیر لیگ کھیلنے ہالینڈ چلے گئے ہیں۔
شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ہاکی فیڈریشن نے یہ مثال قائم کردی ہے کہ افراد کی نہیں سسٹم کی اہمیت ہوتی ہے۔ماضی میں فیڈریشن کو بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔
فیڈریشن کے پاس ان کھلاڑیوں کے بغیر نئی ٹیم تیار کرنے کا یہ جواز موجود ہے کہ اتنے بڑے کھلاڑی ہونے کے باوجود یہ کھلاڑی پاکستان کو بڑا اعزاز نہیں جتواسکے تو نئے کھلاڑیوں کو کیوں نہ موقع دیا جائے۔
پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر و کوچ کے مطابق نئے کھلاڑیوں میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ سینئرکھلاڑی کا خلا پر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کسی سینئر کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ واپسی کے لیئے ضرور کوشش کررہے ہوں گے لیکن وقت آگیا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے۔
شہناز شیخ کہتے ہیں کہ ایشین گیمز میں پاکستان اور جنوبی کوریا ٹائٹل کے لیے فیورٹ ہیں۔