Tuesday, 31 October, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
پاکستان نے آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کے خلاف باقاعدہ تحریری شکایت کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متنازعہ اوول ٹیسٹ کے دوران ان کے رویے کی تحقیقات کی جائیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یا آئی سی سی نے یہ معاملہ بورڈ کی اگلی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جمعہ کو متوقع ہے۔
پاکستانی ٹیم کے ترجمان سلیم الطاف نے کہا ہے کہ تحریری شکایت میں ان تمام مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ٹیم کے خیال میں ’ہیئر نے کرکٹ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا ’یہ تحقیقات ضروری ہیں اور ان کا ہرجانے کے دعوے پر بھی اثر پڑے گا‘۔
انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ چاہتے ہیں کہ پاکستان اس تمام تنازع پر آٹھ لاکھ ڈالر سے زائد کا جرمانہ ادا کرے۔
انگلینڈ اور پاکستان کےدرمیان اوول میں چوتھے ٹیسٹ میچ میں ڈیرل ہیئر کے پاکستان کے خلاف فیصلہ کی وجہ سے پاکستان ٹیم نے احتجاجاً کھیل ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ امپائروں نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف گیند تبدیل کردی تھی بلکہ مخالف ٹیم کو پانچ رن بھی دے دیئے تھے۔
پاکستان 8 لاکھ ڈالر ادا کرے۔۔ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ چاہتے ہیں کہ پاکستان اس تمام تنازع پر 8 لاکھ ڈالر سے زائد کا جرمانہ ادا کرے۔ |
پاکستان کا دعوٰی ہے کہ امپائروں نے انگلینڈ کے حق میں میچ کا فیصلہ دیا، اور آئی سی سی کے سربراہ کی جانب سے کئی درخواستوں کے باوجود ڈیرل ہیئر نے میچ دوبارہ شروع کرنے سے انکار کردیا۔
اس وقت کے ایک مشترکہ بیان میں کہا یا تھا کہ ’ٹیموں، میچ ریفری، ای سی بی اور پی سی بی ٹیسٹ میچ دوبارہ شروع کرنے پر راضی تھے تاہم نہایت افسوس کے ساتھ فیصلہ کیا گیا ہے کہ میچ مزید نہیں کھیلا جائے گا‘۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ انضمام کی سماعت کے بعد ان کے خیال میں یہ معاملہ ختم ہوگیا تھا تاہم پاکستان ہیئر کے کردار کے بارے میں مذید تحقیقات پر اصرار کررہا ہے۔
کھیل کے منتظمین نے اس سلسلے میں باقاعدہ شکایت درج کروانے کا کہا تھا جس میں ان تمام واقعات کی نشاندہی ہو جہاں جہاں ٹیم کے خیال میں امپائر کا رویہ متنازعہ تھا۔
ڈیرل ہیئر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھیل کے اصولوں کے تحت فیصلہ کیا تھا۔