Tuesday, 31 October, 2006, 22:12 GMT 03:12 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پندرہویں ایشین گیمز کے لئے پاکستان کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ ایشین گیمز یکم سے پندرہ دسمبر تک دوحا قطر میں منعقد ہونگے جن میں پاکستان بائیس کھیلوں میں حصہ لے گا۔
پاکستانی پہلوان تربیت کے سلسلے میں ایران میں ہیں۔ کراٹے ٹیم بھی چند روز میں ایران روانہ ہونے والی ہے جبکہ باکسرز کی منزل روس ہے۔
روئنگ، کشتی رانی، باکسنگ اور شوٹنگ کے کیمپ کراچی میں جاری ہیں۔ ہاکی کیمپ کراچی میں شروع ہونے والا ہے۔ بقیہ کھیلوں کی تیاریاں اسلام آباد میں ہورہی ہیں۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن کے مطابق ایشین گیمز کا معیار بہت بلند ہے اور اس کا موازنہ ساؤتھ ایشین گیمز سے نہیں کیا جاسکتا۔ حالیہ ساؤتھ ایشین گیمز میں اگرچہ پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی رہی تھی لیکن ایشین گیمز میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے اور وہ ابھی اس معیار تک نہیں پہنچے ہیں۔
لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن کا کہنا ہے کہ ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں سے بڑے پیمانے پر کامیابیوں کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن ہاکی، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ‘ کشتی رانی اور سنوکر میں انہیں اچھے نتائج کی امید ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے چار سال قبل بوسان جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشین گیمز میں ایک طلائی‘ چھ نقرئی اور چھ کانسی کے تمغے حاصل کیے تھے۔ ان میں زیادہ کامیابیاں ایک طلائی اور چار نقرئی تمغوں کے ساتھ باکسنگ میں رہی تھیں۔ واحد گولڈ میڈل باکسنگ میں مہراللہ نے جیتا تھا لیکن اِس وقت انہیں ممنوعہ ادویات کے استعمال کی پاداش میں ممکنہ پابندی اور طلائی تمغے سے محرومی کا سامنا ہے۔
سنوکر میں پاکستان کو برطانیہ میں مقیم شوکت علی سے بڑی امیدیں وابستہ ہے جو1998 کے بنکاک ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔
2002کے ایشین گیمز میں شہریار ارشد نے کشتی رانی میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ پاکستانی کھیلوں کے حکام اس مرتبہ بھی کشتی رانی میں چونکادینے والے نتیجے کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔
ویٹ لفٹنگ میں پاکستانی کی امیدوں کا مرکز شجاع الدین ہونگے جو اس سال آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔