Saturday, 28 October, 2006, 02:39 GMT 07:39 PST
عارف شمیم
بی بی سی اردو ڈام کام، لندن
پاکستان کو نتینی لے ڈبوا، بے یقینی یا ’دینی‘ یہ کہنا ذرا مشکل ہے لیکن جو بات بالکل عیاں ہے وہ یہ ہے کہ بڑا میچ اور تیز بولرز کو کھیلتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کے بیٹ اور پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔
موہالی میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ہتک آمیز شکست اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لیکن نتینی کے تیز رن اپ اور بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں پہ ایسی دھاک جمائی کہ وہ انہیں ایک کے بعد ایک وکٹ کا نذرانہ دیتے چلے گئے۔ محمد حفیظ ایک، عمران فرحت دو، یونس خان سات، شعیب ملک صفر اور کامران اکمل صرف ایک سکور بنا کر نتینی کا ’مشینی‘ شکار بنے۔ نتینی نے چھ اوور کروائے پانچ وکٹ لیے، اکیس رنز دیے اور یہ جا وہ جا۔
بس یاسر عرفات نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے کچھ مزاحمتی انداز اپنایا ورنہ ٹیم تو اپنے ماضی کا لوئسٹ ٹوٹل کا ریکارڈ توڑنے ہی والی تھی۔
پاکستان کے کوچ باب وولمر نے میچ سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے‘ اور کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ ’ہم مشکل حالات میں اچھا مقابلہ کرنے کے لیے مشہور ہیں اور اب بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو گا‘۔
![]() | |
| باؤچر اور کیمپ پاکستان کے آگے ڈٹ گئے |
کیوں نہ ہو جس ٹیم کا سیکنڈ ہائیسٹ سکور یعنی سولہ ’ایکسٹرا‘ بنائے اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔