Saturday, 21 October, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سپورٹس میڈیسن سے وابستہ ڈاکٹر میثاق رضوی کا کہنا ہے کرکٹرز میں چرس کا استعمال عام ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز میں نشہ آور ادویات کا استعمال بہت زیادہ ہےجن میں شراب اور چرس نمایاں ہیں۔
ڈاکٹر میثاق رضوی کا کہنا ہے کہ چرس پر کرکٹ میں پابندی نہیں ہے اور وہ کارکردگی بڑھانے میں مددگار بھی نہیں ہے البتہ اس کے استعمال سے تھکن کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نینڈرولون سنتھیٹک ہارمون ہے۔یہ اینابالک سٹرائیڈ ہے جو مصنوعی طریقے سے جسم میں داخل کی جاتی ہےاور یہ ڈوپ ٹیسٹ میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ ’ کھلاڑیوں کا یہ دعوی سمجھ سے باہر ہے کہ کسی نے لاعلمی میں انہیں دوا دے دی ہوگی جس میں نینڈرولون کے اجزا ہوں اور انہیں پتہ ہی نہ چلا ہو۔ کیونکہ جب تک اس کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے ہونگے یہ ڈوپ ٹیسٹ میں کیسے ظاہر ہوگئے؟‘
ڈاکٹر میثاق رضوی کے مطابق شعیب اختر کافی عرصےسے فٹنس کے مسائل کا شکار ہیں اور انہیں یقیناً پتہ ہے کہ وہ کن کن دواؤں پر پابندی ہے لہذا اگر وہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کرتے پکڑے گئے ہیں تو وہی قصوروار ہیں البتہ ہوسکتا ہے کہ محمد آصف کو ممنوعہ ادویات کے بارے میں نہ بتایا گیا ہو لیکن یہ کوئی عذر نہیں ہے۔
ڈاکٹر میثاق کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کافی دنوں سے ڈوپنگ کے بارے میں لیکچر کا انعقاد نہیں کرسکا ہے یہ اس کی غلطی ہے۔
کھلاڑیوں کے بی سیمپل کے بارے میں ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ بی سیمپل میں وہ اجزا چیک کیے جاتے ہیں جو اے سیمپل میں ظاہر ہوئے ہوں۔