Wednesday, 18 October, 2006, 17:51 GMT 22:51 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد معاملہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔
یہ تحقیقاتی کمیٹی پنجاب کے سابق گورنر بیرسٹر شاہد حامد سابق ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم اور ایک ڈاکٹر پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر کے نام کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پاکستانی فاسٹ بولرز کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ممتاز قانوں داں شاہد حامد اور سابق ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم کا تقرر کیا ہے۔
جہاں تک ایک ڈاکٹر کی تقرری کا تعلق ہے اس سلسلے میں دو نام زیرغور ہیں جن میں سے ایک کا اعلان جمعرات تک کردیا جائے گا۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہےکہ یہ تحقیقاتی کمیٹی دو ہفتے میں حالات اور واقعات کا جائزہ لینے اور مختلف افراد سے بات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سپرد کردے گا جس کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گا کہ شعیب اختر اور محمد آصف نے لاعلمی یا دانستہ ممنوعہ دوا نینڈرولون کا استعمال کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یہ واضح کردیا کہ یہ تحقیقاتی عمل پاکستان کرکٹ بورڈ کا اندرونی معاملہ ہے اور آئی سی سی اس بارے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ دونوں فاسٹ بولرز کو اپنی صفائی کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ڈوپ ٹیسٹ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوران سامنے آتے تو دونوں پر دو سال کی پابندی عائد ہوسکتی تھی۔
پی سی بی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس واقعے سے پاکستانی کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ دنیائے کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اقدام کو سراہا ہے۔