پاکستانی بالرز شعیب اختر اور محمد آصف کو جس ممنوعہ دوا کے مبینہ استعمال کی وجہ سے مشکل کا سامنا ہے اسے ’نیندرولون‘ کہا جاتا ہے۔
نیندرولون بہت ہی کم مقدار میں تمام جانداروں میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے جبکہ اسے مصنوعی طور پر لیبارٹری میں بھی تیار کی جا سکتا ہے، لیکن پٹھوں کو مضبوط کرنے کی خصوصیت کے باعث کھلاڑیوں میں اس کے استعمال پر پابندی ہے۔
کسی کھلاڑی کے پیشاب کے نمونے میں نیندرولون کی مقدار اگر دو نینوگرام فی ملی لیٹر پائی جائے تو اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق جسم میں نیندرولون کی موجودگی کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ کھلاڑی نے جان بوجھ کر اسے استعمال کیا ہو۔
نیندرولون کی مقدار ایسے جانوروں کا گوشت کھانے سے بھی بڑھ سکتی ہے جن میں نیندرولون زیادہ مقدار میں موجود ہو۔ خصوصاً گھوڑے اور سور کے گوشت میں نیندرولون زیادہ پائی جاتی ہے۔ اسے لیئے کھلاڑیوں کو ان جانوروں کی اوجھڑی کھانے سے منع کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض ’فوڈ سپلیمنٹس‘ میں بھی نیندرولون موجود ہوسکتی ہے اور اسے لیئے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی خوراک کے لیبل پر دیئے گئے دعوؤں پر مکمل یقین نہ کریں۔
انجانے میں بھی ہوسکتا ہے |
نیندرولون جہاں پٹھوں کی مضبوطی اور کارکردگی کو بڑھاتی ہے وہیں اس کے کئی منفی اثرات (کھلاڑیوں میں پابندی لگنے کے علاوہ) بھی ہیں جن میں جسم کے قدرتی توازن اور جگر میں خرابی پیدا ہونا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گنجا پن، آواز کا بھاری ہونا، مردانہ قوت میں کمی اور عورتوں کے چہروں پر بال آنا وغیرہ بھی نیندرولون کے استعمال کے ممکنہ ’سائیڈ ایفیکٹس‘ ہو سکتے ہیں۔