Monday, 16 October, 2006, 13:42 GMT 18:42 PST
شعیب اختر اور محمد آصف کے ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد پیر کے روز پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ نے بھرم رکھنے کی پوری کوشش کی اور کہا کہ کھلاڑی منگل کے روز سری لنکا کے خلاف بھرپور کھیل کا مظاہرہ کرنے کے لیئے تیار ہیں۔
ٹیم کے کوچ بوب وولمر کا کہنا تھا کہ وہ خود اور کپتان یونس خان اس خبر سے مایوس ہوئے ہیں۔’ مجھے زندگی بھر کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہمیں اس کا مقابلہ بہادری سے کرنا ہوگی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ امکان یہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے علاج کے دوران ممنوعہ عنصر کا استعمال نادانستگی میں کیا ہے۔
’مجھے اس بات پر شک ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے اس خاص چیز کا استعمال اپنی کارکردگی بہتر کرنے کے لیئے کیا ہوگا۔ جو چیز ان کے ٹیسٹ میں سامنے آئی ہے، میں سوچتا ہوں اس کا تعلق ان انجکشنوں سے نہ ہو جو شیعب اور آصف علاج کے دوران لیتے رہے تھے۔‘
جے پور سے ایک سپورٹس چینل سے بات کرتے ہوئے بوب وولمر نے کہا کہ ’میں یہی امید کرتا ہوں کہ یہ ایک حادثہ تھا، بلکہ میرا خیال ہے یہ حادثہ ہی تھا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں بالرز کی عدم شمولیت سے پاکستان کی کارکردگی پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں تو ٹیم کے کوچ نے کہا انہیں یقین ہے کہ ٹیم اس سے متاثر ہوئے بغیر اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ ’ہمیں ان مسائل کو پس پشت ڈال کر اپنی توجہ کھیل پر رکھنی ہے کیونکہ ہمارے لیئے سری لنکا کے خلاف دو پوائنٹ حاصل کرنا بہت اہم ہے۔‘
تاہم بوب وولمر نے تسلیم کیا کہ اوول تنازعے کے بعد سے گزشتہ چھ ہفتے پاکستانی ٹیم کے لئیے اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہے ہیں۔‘
ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہا کہ اس واقعہ سے چیمپیئنز ٹرافی کے لیئے ٹیم کی منصوبہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’ہم یہاں اچھا کھیل کھیلنے آئے ہیں، چاہے جیتیں یا ہاریں۔ اور اگر آپ گزشتہ میچ دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شعیب ہوں، نوید رانا ہوں یا راؤ، تمام کو ایک جیسے مواقع حاصل ہیں۔‘
خبررساں ادارے رائیٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی ہنگامہ خیز تاریخ اپنی جگہ لیکن شعیب اور آصف کے ممنوعہ ادویات کے سکینڈل نے کرکٹ انتظامیہ کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے نتیجے میں شعیب اختر کا کیرئر بھی ختم ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان کے سابق کرکٹر جاوید میانداد نے کہا کہ ’شعیب اختر میں بہت ٹیلنٹ ہے لیکن ان سے ڈیل کرنا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ ’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کیونکہ اگلے سال کا ورلڈ کپ ان کے لیئے اپنی کاکردگی دکھانے کا بہت اچھا موقع ہو سکتا تھا۔‘
واضح رہے کہ سلیم الطاف کہ اس بیان کے بعد بی سی سی پی کا ٹرائبونل شعیب اختر اور محمد آصف پر دو سال تک کی پابندی لگا سکتا ہے، اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شعیب اگلے سال ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ میں حصہ لے سکیں گے۔
پاکستان کے قومی سلیکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ ٹسیٹ کا پازیٹو ہونا بڑی شرمندگی کی بات ہے۔ ’ اس سلسلہ میں ابتدائی رپورٹیں اچھی نہیں ہیں۔ میں یہی امید کر سکتا ہوں کہ دونوں کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات دانستہ طور پر نہیں لی تھیں۔‘