Monday, 16 October, 2006, 16:11 GMT 21:11 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کا کیرئر خاصا ہنگامہ خیز رہا ہے اور شاید ہی کوئی دور ہو گا جب وہ کھیلتے یا نہ کھیلتے ہوئے شہ سرخیوں میں نہ رہے ہوں۔
1999 کے ورلڈ کپ میں اپنی طوفانی رفتار سے حریف بیٹسمینوں کے اوسان خطا کرنے کے بعد جب شعیب اختر نے آسٹریلیا میں قدم رکھا تو پہلا تنازعہ مشکوک بولنگ ایکشن کی شکل میں ان کا منتظر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شعیب اختر کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کرنے والے آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر تھے۔
بائیو میکینک ماہرین نے ان کے بازوؤں کی غیرمعمولی لچک اور ساخت کے سبب ان کے بولنگ ایکشن کو موزوں قرار دے دیا لیکن اس کے بعد بھی وہ اپنے منفرد بولنگ ایکشن کے دوسروں کے لئے قابل قبول نہ ہونے کی زد میں آئے اور پاکستان کرکٹ بورڈ ان کا مقدمہ لڑتا رہا۔
شعیب اختر کو مشکوک بولنگ ایکشن کے الزام سے چھٹکارہ ملا تو فٹنس مسائل نے انہیں گھیر لیا اور تواتر کے ساتھ ایسی سیریز بھی گزریں جن میں شعیب اختر مکمل طور پر نہ کھیل سکے۔
ڈسپلن کی خلاف ورزی میں بھی شعیب اختر پیش پیش رہے ہیں۔2001 میں شارجہ ٹورنامنٹ کے دوران انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرزنش کا سامنا رہا۔
ورلڈ کپ2003 سے قبل زمبابوے کے خلاف ہرارے میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں تماشائیوں کی طرف بوتل پھینکنے پر میچ ریفری نے شعیب اختر پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ اور ایک ون ڈے میچ کی پابندی عائد کردی۔
![]() | |
| شعیب اختر نے آسٹریلیا میں قدم رکھا تو پہلا تنازعہ مشکوک بولنگ ایکشن کی شکل میں ان کا منتظر تھا |
اسی سال جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں پال ایڈمز سے نامناسب برتاؤ پر شعیب اختر پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی عائد کی گئی۔
2004میں بھارت کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے اختتام پر شعیب اختر کو اس الزام کی صفائی پیش کرنی پڑی کہ انہوں نے خود کو ان فٹ ظاہر کرکے بولنگ نہیں کی لیکن بیٹنگ کی۔ اس الزام پر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑا۔
پاکستان کی کئی حالیہ سیریز میں شعیب اختر ٹیم میں ان آؤٹ ہوتے رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے دورے سے ان فٹ ہوکر واپس آنے کے بعد وہ بھارت کے دورے پر نہ جاسکے۔ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں پاکستان کی جیت میں سترہ وکٹوں کی صورت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد وہ سری لنکا کے دورے کے لیے ان فٹ قرار پائے گئے۔ انگلینڈ کے حالیہ دورے میں وہ ٹیسٹ سیریز سے باہر رہے لیکن ون ڈے سیریز میں ان کی واپسی ہوئی۔ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو اپنی شاندار کارکردگی سے یادگار بنانا چاہتے تھے لیکن کسی بلے باز کو شکار کرنے سے پہلے ہی خود شکار ہوگئے۔