Thursday, 12 October, 2006, 13:48 GMT 18:48 PST
پاکستان کے جارحانہ بلے باز شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ انضمام الحق کی عدم موجودگی میں آئی سی چیمپیئن ٹرافی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری احتیاط سے کھیلیں گے۔
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پندرہ گیندوں میں پچاس ماریں گے تو انہوں نے بڑی برجستگی سے کہا کیا اس کو ذمہ داری کہتے ہیں۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کھلاڑی ’میچیور‘ ہوتے ہیں۔ انضمام الحق کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انزی بھائی ٹیم میں آئے تھے تو ان کا مختلف انداز تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بہتر ہوتی چلی گئی۔
اپنے بارے میں انہوں نے سہواگ اور جے سوریا کی مثال دی اور کہا کہ وہ ایک ’رسکی پلیئر‘ ہیں۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ آئی سی سی چیمپیئن ٹرافی کے دوران ان کے کیا ارادے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں کوئی بڑی بات نہیں کرنی چاہیے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ کرکٹ ’ اینجوائے‘ کرنے آئے ہیں اور کھیل سے مزا لینا چاہتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور ایک ساکھ بنائی ہے۔
آئی سی سی چیمپئن ٹرافی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا ٹورنامنٹ ہے اور ورلڈ کپ سے پہلے نفسیاتی برتری حاصل کرنے کے لیئے سب ٹیمیں اس کو جیتنے کی کوشش کریں گی۔
بھارت میں کرکٹ کھیلنے کے اپنے تجربے پر انہوں نے کہا کہ انہیں انڈیا میں کرکٹ کھیلنے میں ہمیشہ بہت لطف آیا ہے۔ انہوں نے کہا جب انڈین بلے باز شاٹس کھیلتے ہیں تو لوگ خوب تالیاں بجا تے ہیں لیکن جب پاکستانی کوئی شاٹس کھیلتے ہیں تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ سے اپنے استعفیٰ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک روزہ کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں لیکن دوستوں کے مشورے کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔
ایک سوال پر کہ وہ تیز بال کو زیادہ اچھی طرح کھیلتے ہیں یا سپن بال کو تو شاہد آفریدی نے کہا کہ جب بال بلے پر آ رہی ہو تو پھر ہر بالر اچھا لگتا ہے۔