Saturday, 07 October, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان نے جمعے کی رات اچانک اپنے عہدے سے استعفی دے دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے ایسا اپنی مرضی سے کیا۔
پاکستان کی ٹیم کے کیمپ کے آخری روز جمعے کی شام شہر یار خان نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھلاڑیوں کے ساتھ گزاری اور وہاں ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ کھلاڑیوں کو چمپئنز ٹرافی میں ٹیم سپرٹ کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے اور اس وقت وہ ہشاش بشاش دکھائی دیتے تھے۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنے استعفی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں یونس کے فیصلے سے صدمہ ہوا ہے لیکن ایسا کوئی تاثران کے چہرے سے عیاں نہیں تھا۔
یونس خان کے کپتانی چھوڑنے کے اعلان کے بعد شہر یار خان نے ہی محمد یوسف کی کپتانی کا اعلان کیا۔ ان کہنا تھا کہ یونس خان نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ بہت غلط وقت پر کیا کیونکہ ٹیم کی روانگی میں صرف دو دن ہیں لیکن انہوں نے خود اپنا استعفٰی ٹیم کی روانگی سے صرف ایک دن پہلے دیا۔ شہریار کے استعفٰے کے بعد نئے چئرمین نے آتے ہی یونس خان کو دوبارہ کپتان بنا دیا۔
اس ساری صورتحال سے صاف ظاہر ہے کہ شہر یار خان کے سلسلہ میں یونس خان کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے جلتی پر تیل کا کام کیا کیونکہ وہ اس سے پہلے ہی اوول ٹیسٹ تنازعے کو بہتر طور پر ہینڈل نہ کر سکنے پر تنقید کی زد میں تھے اور ان کے ہٹائے جانے کی خبریں پہلے سے ہی گردش کر رہی تھیں۔
ویسے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف خان عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کب کسی کے اپنی مرضی سی استعفی دینے کی روایت ہے۔ کوئی بھی اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔
![]() | |
| ڈاکٹر نسیم اشرف کو اوول تنازعے کے وقت بار بار ٹی وی پر دکھایا گیا تھا۔ |
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چئرمین نسیم اشرف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم اشرف اوول تنازعے کے وقت اوول سٹیڈیم میں شہر یار خان کے قریب کھڑے تھے اور انہیں بار بار ٹی وی پر دکھایا گیا۔اب صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ہوتے ہوئے انہوں نے صدر صاحب کو اس واقعہ کی کیا تفصیلات بتائی ہوں گی یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اوول ٹیسٹ تنازعے سے شروع ہونے والا ڈرامہ اور پھر کپتانی کا بحران وہ وجوہات تھیں جو شہر یار خان کے ہٹائے جانے کا محرک بنیں۔