Friday, 06 October, 2006, 18:03 GMT 23:03 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو، لاہور
نئے کپتان بنائے جانے والے محمد یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں کوئی اختلافات نہیں اور یونس خان ’ٹیم مین‘ ہیں۔ ’وہ ٹیم کے لیے کھیلیں گے اور کل کے واقعہ سے قطع نظر ٹیم میں ہم آہنگی ہے اور ٹیم چیمپئینز ٹرافی میں اچھا پرفارم کرے گی‘۔
یاد رہے کہ یونس خان کو کپتان مقرر کیا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ وہ ’ڈمی کپتان‘ بننے کے لیئے تیار نہیں۔ ان کے انکار کے بعد یہ ذمہ داری محمد یوسف کو سونپ دی گئی۔
محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کی کپتانی کو وہ اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں اور یہ ذمہ داری نبھانے کی پوری کوشش کریں گے۔یوسف نے چمپئنز ٹرافی میں کسی ٹیم کو فیورٹ قرار نہیں دیا اور کہا ہے کہ جو ٹیم اچھا کھیلے گی فتح اسی کی ہو گی۔
یوسف نے کہا کہ وہ اپنی مخالف ہر ٹیم کو مضبوط خیال کرتے ہیں اور اگر ہم ہر ٹیم کو اپنے سے بہتر سمجھیں گے تب ہی ان کے خلاف زیادہ محنت کریں گے اور اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی وکٹیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور ہمارے پاس اچھا باؤلنگ اٹیک ہے جو بھارتی وکٹوں پر اچھی باؤلنگ کروا سکتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی فیلڈنگ بہتر نہیں اور کہا کہ تمام کھلاڑی اچھی فیلڈنگ کی کوشش کریں گے۔
محمد یوسف نے یہ بھی کہا کہ عبدالرزاق کو نائب کپتان بنانے کا فیصلہ بورڈ کا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ٹیم میں صلاحیت ہے کہ وہ چیمپئینز ٹرافی جیت سکے لیکن اس کے لیے ہر میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی ٹیم کا چیمپئینز ٹرافی کے لیے لگائے جانے والے تین روزہ کیمپ کا جمعے کو آخری دن تھا۔
یونس خان سمیت تمام کھلاڑیوں نے کل کے واقعے کو بھُلا کر نارمل انداز میں تربیت کی۔ تربیت سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ شہر یار خان نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں ٹیم سپرٹ، یک جہتی اور ہم آہنگی سے کھیلنے کی تلقین کی۔
ٹیم ہفتے کی دوپہر لاہور سے دلی روانہ ہو گی۔ چیمپئینز ٹرافی سے پہلے ٹیم کا جے پور میں سات دن کا تربیتی کیمپ لگایا جائے گا۔