Tuesday, 03 October, 2006, 13:52 GMT 18:52 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی اجازت کے بغیر یورپ میں ہاکی لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں سہیل عباس، وسیم احمد اور غضنفر علی کو ایشین گیمز کے تربیتی کیمپ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
یہ کیمپ دس اکتوبر کو اسلام آباد میں شروع ہورہا ہے جس کے لیئے اڑتیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ان ممکنہ کھلاڑیوں میں ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے علاوہ جونیئر اور اے ٹیم کے سولہ کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اخترالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ لیگ ہاکی کھیلنا کھلاڑی کا اپنا معاملہ ہے جس کا دنیا کی کسی بھی فیڈریشن سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ کھلاڑی فیڈریشن کو بتاکر نہیں گئے کہ وہ کیمپ میں آئیں گے یا نہیں لہذا ہم انہیں موقع دے رہے ہیں کہ وہ کیمپ میں شرکت کرسکیں۔
اخترالاسلام کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ٹیم میں شمولیت کے لیئے صرف ٹرائلز میں شرکت کافی نہیں ہوگی بلکہ کھلاڑیوں کو کیمپ میں بھی شرکت کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ سہیل عباس اور وسیم احمد پاکستان ہاکی فیڈریشن سے معافی مانگنے کے بعد ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن اب انہوں نے اپنے سلیکشن کے معاملے میں ایک بار پھر غیریقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔
ہاکی کے متعدد تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ ہالینڈ میں ہاکی لیگ کھیلنے والے کھلاڑی کے لیئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کی موجودہ ٹیم سے بھی کھیل رہا ہو لہذا سہیل عباس اور وسیم احمد نے اپنے کنٹریکٹ بچانے کے لیئے پہلے پاکستانی ٹیم میں جگہ بنائی اور اب اسی بنیاد پر وہ ہالینڈ میں جاکر کھیل رہے ہیں جبکہ ان مبصرین کے بقول انہیں ملک کی فکر نہیں ہے۔