http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 29 September, 2006, 10:34 GMT 15:34 PST

کرکٹ ماہرین نے پانسہ پلٹ دیا

انضمام الحق کے خلاف گیند کو خراب کرنے کے الزام کی سماعت میں کرکٹ کے ماہرین کی گواہی نے فیصلہ پاکستان کے حق میں ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انگلینڈ کے سابق بیٹسمین جیف بائیکاٹ،اور ٹی وی ماہر سائمن ہیوز کی گواہی کے بعد ہی آئی سی سی کے ریفری رانجن مدوگلے کے لیئے ممکن ہوا کہ وہ پاکستان کے کپتان کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کر دیں۔

کرکٹ تنازعہ میں پاکستان کی فتح، تصاویر

جیف بائیکاٹ نےاپنی شہادت میں ڈیرل ہئیر کے کی طرف سے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیند کو خراب نہیں کیا گیا تھا۔ متنازعہ گیند کو فضا میں بلند کرتے ہوئے جیف بائیکاٹ نے کہا کہ ’یہ نہ صرف اچھی گیند ہے بلکہ کھیلنے کے قابل گیند ہے‘۔

جیف بائیکاٹ نے کہا کہ دھوکہ دہی کے الزام کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یا میرے دوستوں میں سے کسی پر کوئی دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہوتا تو الزام لگانے والے کو مکہ مار کی چت کر دیا ہوتا۔

سائمن ہوز نے اپنی گواہی کے دروان کہا کہ شواہد سے ایسا لگتا ہے کہ ڈیرل ہئیر نے اندازوں کی بنیاد پر پاکستان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کر دیا جس کی وجہ پاکستان کو اس ٹیسٹ میں شکست خوردہ قرار دے دیا گیا۔

سائمن ہوز نے کہا کہ ڈیرل ہیئر نے انتہائی ناکافی شہادت کی بنیاد پر پاکستان ٹیم پر الزام عائد کرتے ہوئے گیند تبدیل کر دی۔ سائمن ہیوز کے مطابق گیند پر لگے نشان ایسے نہیں تھے جن کی بنیاد پر کسی ٹیم کو بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا جا سکتا تھا۔

سائمن ہیوز نے کہا کہ جب انہوں نے گیند کا معائنہ کیا تووہ بلکل ایسی ہی لگی جیسی اتنے اووروں کے بعد گیند ہوتی ہے۔