Thursday, 28 September, 2006, 15:02 GMT 20:02 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو آئی سی سی کی جانب سے بال ٹیمپرنگ کیس میں بری کیئے جانے پر پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فیصلے کو پاکستانی کرکٹ کی اخلاقی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے آئی سی سی سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ متنازعہ امپائر ڈیرل ہیئر کو فوری طور پر الیٹ پینل سے خارج کردیا جائے۔
سابق کپتان اور منیجر انتخاب عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی کرکٹ کی اخلاقی جیت ہے۔اب کوئی بھی شخص بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کرتے وقت ایک سے زائد بار سوچے گا اور جب تک اس کے پاس اس بارے میں سو فیصد ثبوت نہیں ہوگا وہ یہ الزام عائد نہیں کرے گا۔
انتخاب عالم کے خیال میں انضمام الحق خود کو پرسکون محسوس کررہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انضمام کو چار میچوں کی پابندی کے بارے میں زیادہ نہیں سوچنا چاہیئے بلکہ اپنی مکمل توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز رکھنی چاہیئے۔
سابق کپتان جاوید میانداد نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بال ٹیمپرنگ ثابت نہ کرنے کے بعد ڈیرل ہیئر کی پوزیشن متنازعہ ہوگئی ہے لہذا انہیں فوری طور پر امپائرنگ پینل سے خارج کردیا جائے۔ جاوید میانداد کے خیال میں انضمام الحق کو دی جانے والی چار میچوں کی پابندی کی سزا بہت سخت ہے۔
سابق کپتان عامرسہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں قوانین سے مکمل واقفیت کےلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب آئی سی سی کو بھی بال ٹمپرنگ قوانین پر نظرثانی کرنی ہوگی۔
![]() | |
| چار میچوں کی پابندی کی سزا بہت سخت ہے: جاوید میانداد |
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی کہتے ہیں کہ کھیل کا وقار انضمام الحق نے بلکہ ڈیرل ہیئر نے مجروح کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب بال ٹیمپرنگ کا الزام ہی ثابت نہیں ہوا تو پھر اس ضمن میں احتجاج کرنے پر انضمام الحق کو سزا کیوں دی گئی ہے؟ یہ صورتحال سے صحیح طور پر نمٹنے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔