Thursday, 28 September, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
پاکستان کے کرکٹ کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ کھیل کو بدنام کرنے کے الزام میں انہیں قصور وار پاتے ہوئے چار ایک روزہ میچوں کی پابندی کی سزا دی گئی ہے۔
دوسری طرف سکیورٹی اور سلامتی اقدامات کے پیشِ نظر امپائیر ڈیرل ہیئر آنے والی چیمپئنز ٹرفی امپائروں کے پینل میں نہیں رکھے گئے۔
انضمام الحق اس فیصلے کے خلاف چوبیس گھنٹے کے اندر اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی کم پابندی ہے اور میں اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کروں گا‘۔
انضمام الحق نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے چیف ریفری رانجن مدوگالے نے کہا کہ انہوں نے اور آئی سی سی کے دیگر ماہرین نے یہ فیصلہ بال ٹیمپرنگ کے سلسلے میں پیش کیئے گئے تمام شواہد کا تقصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔
’ بال ٹیمپرنگ کے الزام کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے، جو کہ دراصل دھوکہ دہی کے الزام کے مترادف ہے، اور بال ٹیمپرنگ کے سلسلہ میں پیش کیئے گئے ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم (یعنی پاکستانی ٹیم) نے گیند کی حالت تبدیل کی تھی۔‘
مدو گالے نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مذکورہ گیند اتنی ہی خراب ہوئی تھی جتنی کہ عمومی کھیل میں چھپن اوور کے بعد ہو جاتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ ’میں آئی سی سی کے فیصلے سے خوش ہوں اور تمام عمل بہت منصفانے طریقے سے مکمل ہوا ہے‘۔
اب تک کی اطلاعات میں یہ واضح نہیں ہے کہ انضباطی کارروائی کے فیصلے میں ایمپائر ڈیرل ہیئر کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے یا نہیں۔