Tuesday, 26 September, 2006, 12:30 GMT 17:30 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کرکٹ کے کھیل کو بدنام کرنے اور بال کی حالت بدلنے کے الزامات میں آئی سی سی کی دو روزہ سماعت کے دوران اپنا بیان شروع کر دیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان پر اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کے کھیلنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
انگلینڈ میں اوول ٹیسٹ کے دوران ایمپائر ڈیرل ہیئر نے انضمام پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا تھا جس کے بعد انضمام ٹیم کو گراؤنڈ سے باہر لے گئے تھے۔
بی بی سی سپورٹ نے اس تنازعے کے اہم کرداروں پر روشنی ڈالی ہے۔
انضمام الحق
![]() | |
| اوول میں انضمام میدان سے جا رہے ہیں |
تاہم ان پر کی گئی ضابطۂ اخلاق کی کارروائیوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ماضی میں ان پر نو مرتبہ الزامات لگائے جا چکے ہیں اور تین مرتبہ ان کے کھیلنے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔
بطور کپتان اوول کے میدان میں ٹیم کے کسی بھی رویے کی ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
راجن مدوگالے
![]() | |
مدو گالے یہ فیصلہ کریں گے کہ پاکستان نے بال کی حالت میں تبدیلی کی تھی اور پاکستانی ٹیم کے میدان سے باہر جانے سے کرکٹ کا کھیل بدنام ہوا ہے۔
ڈیرل ہیئر
![]() | |
ڈیرل ہیئر انگلینڈ کے حق میں میچ کا فیصلہ دینے میں بھی شامل تھے۔
اس کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ انہوں نے پانچ لاکھ ڈالر کے بدلے میں اپنا استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔
بلی ڈاکٹرو
![]() | |
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ دونوں ایمپائر پاکستان پر الزامات لگانے میں متفق تھے۔ تاہم کرک انفو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرو بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کرنے سے پہلے کھیل کو کچھ دیر اور جاری رکھنا چاہتے تھے۔
مائیک پراکٹر
![]() | |
تاہم ایمپائروں نے کھیل ختم کرنے کا اعلان کیا اور انگلینڈ کے حق میں میچ کا فیصلہ دے دیا۔
ڈاؤ کوئیی
![]() | |
میچ کے دو دن بعد انہیں ڈیرل ہیئر کی وہ ای میل آئی تھی جس میں انہوں نے پیسوں کے عوض استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔
کوئیی نے جواب کے طور پر کہا تھا کہ ’آپ کی پیشکش قابلِ غور ہے‘۔
دوسرے ممکنہ گواہ
۔ شہریار خان، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ
۔ پاکستانی کوچ باب وولمر
۔ اوول میں ٹی وی ایمپائر پیٹر ہارٹلے
۔ اوول میں چوتھے ایمپائر ٹریور جیسٹی