Saturday, 23 September, 2006, 11:09 GMT 16:09 PST
آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ ایمپائر مارک بینسن کے فیصلے کے خلاف اعتراض کرنے کے باوجود کسی کارروائی کا سامنا نہیں کریں گے۔
رکی نے جمعہ کو کوالالمپور میں انڈیا کے خلاف میچ میں ایمپائر مارک بینسن کے ایک فیصلہ پر اعتراض کیا تھا۔ سہ فریقی سیریز میں آسٹریلیا انڈیا کے خلاف میچ اٹھارہ رنز سے جیت گیا تھا۔
مارک بینسن نے تندولکر کو پہلے آؤٹ قرار دیا بعد میں پھر انہوں نے اپنے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے تندولکر کو میدان میں واپس بلوالیا۔ ان کے اس فیصلے پر پونٹنگ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
اس سال کے دوران ان پر اختلاف رائے کی وجہ سے دو مرتبہ جرمانہ کیا جاچکا ہے اور دوسری مرتبہ کیا جانے والا جرمانہ محض دس دن پرانا ہے۔
میچ کے ریفری کرس براڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میچ کے اختتام پر اس اختلافی معاملے کو ایمپائر کی جانب سے نہیں اٹھایا گیا۔
پونٹنگ کا کہنا تھا کہ’ایمپائر نے فیصلہ کیا اور پھر بعد میں اسے تبدیل کردیا اب میں سوچتا ہوں کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔انہوں نے جب اپنے فیصلے کی وضاحت کی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو بات ہماری سمجھ میں آگئی۔ میں اس وقت خوش نہیں تھا تاہم وہ ایک فیصلہ تھا‘۔
تاہم رکی پونٹنگ اگر کھلاڑیوں کے لیئے متعین ضابطہء اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو ان پر میچ کھیلنے کی پابندی لگ سکتی ہے۔
رکی پونٹنگ کو پہلے ہی آسٹریلیا کے کرکٹ حکام کی جانب تنبیہہ کی جا چکی ہے۔
اس سے قبل سہ فریقی سیریز کے دوران ویسٹ انڈیز کے ساتھ میچ میں ایک فیصلے کے خلاف اپنی رائے کے اظہار کی وجہ سے ان پر جرمانہ کیا جا چکا ہے اور پونٹنگ نے اس واقعے پر عوامی سطح پر معافی مانگی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ بات کو سمجھنے میں ان سے شدید غلطی ہوئی تھی۔