Saturday, 16 September, 2006, 19:11 GMT 00:11 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ لیگ سپنر مشتاق احمد کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اسسٹنٹ کوچ مقرر کرکے اس نے کوئی غلط قدم اٹھایا ہے لیکن خود جسٹس ملک محمد قیوم کے خیال میں یہ تقرری ان کی رپورٹ کی سفارشات کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹ میں اگر یہ بات موجود ہے کہ مشتاق احمد کی کسی عہدے پر تقرری یا انہیں کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے تو پھرانہیں حیرانگی ہے کہ کرکٹ بورڈ نے یہ قدم کیسے اٹھایا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیا جن کے دور میں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آئی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ انتہائی حساس معاملہ ہے‘۔ ہوسکتا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے مشتاق احمد پر گہری نظر رکھنے کے بعد( جس کا قیوم رپورٹ میں کہا گیاہے ) اطمینان کرکے اسے یہ ذمہ داری سونپی ہو لیکن اگر وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہوتے تو پہلے اس بارے میں قانونی مشاورت لیتے اور پھر فیصلہ کرتے۔
لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیا کا کہنا ہے’اگر مشتاق احمد کو کلیئر کیا گیا ہے تو پھر باقی کرکٹرز کو بھی کلیئر کرنا ہوگا‘۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر عامرسہیل کے خیال میں یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے اعلان کردہ اسکواڈ میں کوئی بھی اسپنر شامل نہیں ہے پھر مشتاق احمد کی تقرری کیا معنی رکھتی ہے؟ وہ اپنا تجربہ کسے منتقل کرینگے۔ کرکٹ بورڈ کو اپنے ہر فیصلے کا منطقی جواز پیش کرنا چاہیئے یہ قوم کے پیسے کا ضیاع ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ پر لگی میچ فکسنگ کی گندگی صاف کرنے کے لیئے کی گئی عدالتی تحقیقات میں جو کرکٹ کی دنیا میں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کے نام سے مشہور ہوئی جن کرکٹرز کے خلاف فیصلے کیئے گئے ان میں مشتاق احمد بھی شامل تھے۔
جسٹس قیوم رپورٹ مشتاق احمد کے بارے میں تحریر ہے کہ ان پر گہری نظر رکھی جائے اور انہیں ٹیم میں کسی قسم کی بھی ذمہ داری (مثلاً قیادت یا سلیکشن) اسی طرح بورڈ میں کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے اس کے علاوہ ان پر تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔
جسٹس ملک محمد قیوم رپورٹ میں یہ بھی واضح طور پر درج ہے کہ مشتاق احمد جواریوں کے ساتھ مبینہ تعلقات کے ذریعے پاکستانی کرکٹ کا نام بدنام کرنے کا سبب بنے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کھلاڑی کے بارے میں عدالتی تحقیقاتی رپورٹ میں اس طرح کے ریمارکس ہوں اسے کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں ایک اہم ذمہ داری کیوں سونپ دی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان اور ڈائریکٹر عباس زیدی کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد پر کوئی پابندی نہیں ہے اور وہ کھیلنے کے لیئے آزاد ہیں۔
جہاں تک مشتاق احمد پر پابندی کا تعلق ہے تو یقیناً ان پر کوئی پابندی نہیں لگی اور وہ جسٹس قیوم رپورٹ کے بعد بھی انٹرنیشنل اور کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں لیکن انہیں کوئی ذمہ داری سونپا جانا بالکل مختلف بات ہے جیسا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
جسٹس ملک محمد قیوم کی عدالتی تحقیقات رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر پاکستان کرکٹ بورڈ عملدرآمد کرتا رہا ہے جس میں سلیم ملک اور عطاء الرحمن پر تاحیات پابندی جرمانے اور وسیم اکرم کو قیادت سے الگ رکھنا شامل ہے حالانکہ ورلڈکپ 2003ءسے قبل وسیم اکرم کو کپتان بنائے جانے کے بارے میں سوچا جارہا تھا لیکن جسٹس قیوم رپورٹ آڑے آگئی۔