Thursday, 14 September, 2006, 19:05 GMT 00:05 PST
پاکستانی کرکٹ کے نامور کھلاڑی محمد یوسف نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلی بار اپنے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں بات چیت کی ہے۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد یوسف نے بتایا کہ ’جب سے میں مسلمان ہوا ہوں، میرا دل سکون محسوس کرتا ہے۔ اس سے پہلے میں بہت مضطرب رہتا تھا لیکن اللہ نے اب مجھے ہر چیز سے نوازا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ دنیا میں میرے پاس کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی۔ میرے پاس دولت بھی تھی اور شہرت بھی۔ لیکن اب میرے دل میں سکون بھی ہے‘۔
اکتسیس سالہ محمد یوسف، جن کا نام پہلے یوسف یوحنا تھا نے اس انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے 2005 میں اسلام کیسے قبول کیا۔
وہ پاکستانی ٹیم میں واحد عیسائی تھے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلام بڑے بڑے مذہبی پشواؤوں کے درس سننے کے بعد قبول کیا۔
پاکستانی کرکٹ بورڈ نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اس نے محمد یوسف کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا تھا۔
محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے ڈرسینگ روم کا ماحول غیر اسلامی ہوتا تھا لیکن اب الحمداللہ ایسا نہیں ہے اور ٹیم کے تمام کھلاڑی باقاعدگی سے با جماعت پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی آنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سعید انور بھی تبلیغی جماعت کے ساتھ 2001 میں اپنی بیٹی کی وفات کے بعد منسلک ہوئے تھے۔
محمد یوسف کا شمار پاکستانی ٹیم کے تجربہ کار ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 223 ون ڈے انٹرنیشنل اور 70 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے مجموعی طور پر تیرہ ہزار رن بنائے ہیں جن میں 30 سنچریاں اور 75 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
انصمام الحق کے بعد محمد یوسف کی بلے باز کے طور پر کایابی قابل تحسین ہے۔
محمد یوسف کا 30 منٹ کا انٹرویو بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے رمضان سپیشل پروگرام کے لیے لیا گیا ہے۔