Wednesday, 13 September, 2006, 11:20 GMT 16:20 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردوڈاٹ کام، حیدرآباد دکن
ہندوستان کی مشہور ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کے ستارے آج کل گردش میں ہیں۔ ثانیہ ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن کی رینکنگ میں 32 ویں نمبر پر تھیں لیکن یہ برس ان کے لیئے مایوس کن ثابت ہوا ہے اور وہ لڑھک کر 70 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی رینکنگ میں کمی سے انکی ماڈلنگ بھی متاثر ہوئی ہے جو انکی کمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
سنہ دو ہزار چھ میں ثانیہ کا کسی بھی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔ چوٹی کے 10 کھلاڑیوں میں شامل ہونے کا خواب دیکھنے والی ثانیہ اس برس اگست میں چوٹی کے 50 کھلاڑیوں کی فہرست سے بھی باہر ہوگئی تھیں۔ اپنے کیریئر میں ثانیہ نے صرف ایک بار ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل حاصل کیاہے۔ انہوں نے 2003 ء کا ومبلڈن جونیئر ڈبلز ٹائٹل کا خطاب جیتا تھا۔
اس برس ثانیہ آسٹریلین اوپن میں دوسرے راؤنڈ میں فرنچ اور ومبلڈن میں پہلے راؤنڈ میں اور یو ایس اوپن میں دوسرے راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہوئیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ثانیہ کی خراب کار کردگي کی وجہ ان کی فٹنس ہے۔ انہیں گھٹنے اور کندھے کے زخموں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کورٹ پر انکی کارکردگی متاثر ہوئی ہے-
ثانیہ کے خراب مظاہرے اور گرتی ہوئی پوزیشن کا سیدھا اثر اشتہاری دنیا میں ان کی مانگ پر بھی پڑا ہے- ابتدائی کامیابیوں نے ثانیہ کو شہرت اور گلیمر کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا اور حیدرآباد اوپن جیتنے کے بعد ایک سال کے اندر انہیں اشتہارات میں ماڈلنگ سے تقریبا 7 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ اس طرح متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ثانیہ راتوں رات کروڑ پتی بن گئیں۔
ثانیہ اشتہاری بورڈز سے غائب |
ہندوستان کی کئی بڑی کمپنیوں نے پرکشش شخصیت کی مالک ثانیہ مرزا کو اپنا برانڈ ایمبسیڈر بنایا تھا۔ ٹینس مقابلوں میں حصہ لینے سے ہونے والی آمدنی اس کے علاوہ تھی- چنانچہ 2005 ء میں صرف امریکہ کے دورہ کے دوران انہیں یو ایس اوپن اور دوسرے ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے 70 ہزار ڈالر یا تقریبا 60 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ لیکن اب جبکہ ثانیہ کے ستارے روبہ زوال ہیں ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف کمپنیاں انہیں اپنا ماڈل بنانے سے کنی کاٹنے لگی ہیں بلکہ موجودہ کمپنیاں بھی ثانیہ کے ساتھ اپنے معاہدے میں مزید توسیع کرنا نہیں چاہتیں-
اشتہاری دنیا کے حلقوں میں یہ خبر گرم ہے کہ ہندوستان کی ایک بڑی زیورات کی کمپنی مالا بار گولڈ نے ثانیہ کے ساتھ اپنے معاہدہ میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے- چنانچہ اس کمپنی کی وہ ہورڈنگس اور اشتہارات منظر سے ہٹنے لگے ہیں جن پر ثانیہ کا چہرہ نمایاں ہوا کرتا تھا۔