Saturday, 09 September, 2006, 11:07 GMT 16:07 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندوستان میں کرکٹ شائقین اس بات سے ناراض ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کو اس برس کے آئی سی سی انعام کے لیئے نامزد نہیں کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخاب کا طریقہ کار ذرا پیچیدہ ہے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے وقت صرف رن نہیں دیکھے جاتے بلکہ کئی اور پہلوؤں پر بھی غور کیا جاتا ہے۔
انعام کے لیئے جب آئی سی سی نے اپنے چنیدہ کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی تو اس میں مہندر سنگھ دھونی کا نام نہ پاکر ان کے مداحوں کو مایوسی ہوئی۔ میڈیا میں بھی اس مسئلے پر کافی بحث ہوئی ہے۔
آئی سی سی کےسی ای او میلکم سپیڈ گزشتہ دنوں دلی میں تھے اور انہیں اس مسئلے پر صفائی بھی پیش کرنی پڑی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی سی سی انعام کے لیئے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب ایک سلیکشن کمیٹی کرتی ہے اور ’یہ کمیٹی کے ارکان سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے کس کھلاڑی کو کس بنیاد پر منتخب کیا ہے۔ آئی سی سی صرف کمیٹی کے فیصلے کو منظور کرتی ہے‘۔
آئی سی سی انعامات کے لیئے نامزدگیاں کرنے والی کمیٹی میں پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس، انڈیا کے سنیل گواسکر اور سری لنکا کے سابق کپتان ارجن رانا ٹنگا بھی تھے۔
دھونی پھر بھی نہ ہوتے |
ان سب باتوں کے باوجود دھونی کے مداخ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔
پونم کہتی ہیں کہ یہ دھونی کے ساتھ نا انصافی ہے۔ ’انہوں نے بہت کم وقت میں اپنی شاندار بلے بازی سے یہ مقام حاصل کیا ہے انہیں انعام کے لیئے نامزد کیا جانا چاہیے تھا‘۔ ہمانشو کے مطابق ’آئی سی سی کے اپنے اصول ہیں اور دھونی شاید اس پر کھرے نہیں اترے لیکن انہیں نامزد کیا جاتا تو مجھے بہت خوشی ہوتی‘۔
کلیم کہتے ہیں کہ ’انعام اور اعزاز کے لیئے لالچ نہیں کرنا چاہیے۔ دھونی اگر اسی طرح کھیلتے رہے تو انہیں بہت انعام ملیں گے‘۔ سونیا کہتی ہے کہ دھونی کا کھیل انہیں بہت پسند ہے اور ’آئی سی سی کے فیصلے سے مجھے مایوسی ہوئی ہے‘۔ عارفہ کہتی ہیں کہ دھونی ابھی نئے کھلاڑی ہیں اور انہیں ’انتظار کرنا چاہیے‘۔ شکنتلا اور کامنی کہتی ہیں کہ بھارت کے ساتھ آئی سی سی کا رویہ درست نہیں ہے۔ ’دھونی اب ہم سب کی دل کی دھڑکن ہیں اور ان کے ساتھ یہ سلوک ہمیں اچھا نہیں لگا‘۔
راہول ڈراوڈ نامزد |
چیمیئنز ٹرافی آئندہ اکتوبر اور نومبر میں کھیلی جائے گی۔