Wednesday, 06 September, 2006, 14:33 GMT 19:33 PST
عالمی کرکٹ کونسل انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان اوول کے متنازع ٹیسٹ میں استعمال کی جانے والی بال کا کیمیائی تجـزیہ کرانے پر غور کر رہی ہے۔
آئی سی سی کے سربراہ میلکم سپیڈ کا کہنا ہے کہ ’کیمیائی تجزیہ کرانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ کے قوانین اس بارے میں واضح ہیں کہ کن باتوں کو بال کی حالت تبدیل کرنا تصور کیا جاتا ہے‘۔
’پاکستان اور آئی سی سی کے وکیل ان شہادتوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو پیش کی جانی ہیں‘۔
میچ کے امپائر ڈیرل ہیئر اس میچ میں تنازع کا مرکز بن گئے تھے جب انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ بال کو بگاڑنی یا ٹیمپر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بال کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس بارے میں فیلڈنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان کو آگاہ بھی نہیں کیا۔
اس معاملے کے بعد جب چائے کا وقفہ ہوا تو پاکستانی ٹیم بروقت میدان میں واپس نہیں آئی اور امپائر ڈیرل ہیئر نے میچ کا فیصلے انگلینڈ کے حق میں کر دیا اور جب پاکستانی ٹیم میدان میں واپس آئی تو امپائروں نے آنے سے انکار کر دیا۔
مذموم مقاصد کی تردید |
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس تنازعے میں اب پاکستانی کپتان انضمام الحق کے خلاف بال ٹیمپرنگ اور کھیل کو متنازع بنانے کے الزامات کی سماعت ہو گی۔
کہا جاتا ہے کہ تنازعے کی سماعت اس لیئے ملتوی کی گئی تھی کہ آئی سی سی کے چیف میچ ریفری رنجن مدھوگالے کو کچھ ذاتی وجوہات درپیش تھیں۔
میلکم سپیڈ نے منسوخی یا کیمیائی تجزیہ کرانے کی تجویز کے پیچھے کسی طرح کے مذموم مقاصد کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے برخلاف کیمیائی تجزیے سے تمام فریقوں کے لیئے سماعت کا منصفانہ ہونا یقینی ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم منصفانہ سماعت چاہتے ہیں اور اب تک اس سلسلے میں حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوا لیکن دو ایک دن میں ہو جائے گا‘۔
میلکم سپیڈ نے کہا ہے ’نہ ہم تو اس معاملے میں امپائر کا ساتھ دینا چاہتے ہیں اور ہی یہ چاہتے ہیں کہ یہ لگنے لگے کہ ہم ٹیم کی طرف ہیں‘۔