عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز پیر کو کولمبو کے سوگاتھا داسا سٹیڈیم میں سخت سکیورٹی میں ہونے والی رنگارنگ تقریب میں اختتام کو پہنچے۔
افتتاحی تقریب کی طرح اختتامی تقریب بھی خوبصورت رنگ لیئے ہوئے تھی جس میں سرسنگیت بھی تھی اور سری لنکا کی قومی اورعلاقائی زندگی کی بھرپور عکاسی بھی اس میں جھلک رہے تھے۔
شریک ممالک کے دستوں کے مارچ پاسٹ اور ان کھیلوں کے پرچم کی اگلے میزبان بنگلہ دیش کو منتقلی کے بعد آتش بازی کے خوبصورت مظاہرے نے تقریب کو چارچاند لگادیئے۔
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں بھارتی کھلاڑیوں نے اپنی برتری ثابت کردی۔ بھارت نے ان کھیلوں میں ریکارڈ118 طلائی تمغے حاصل کئے۔ اس کے چاندی اور کانسی کے تمغوں کی تعداد69 اور 47 رہی۔ اس سے قبل بھارت نے اپنے یہاں1995 میں ہونے والے سیف گیمز میں 106 گولڈ میڈلز جیتے تھے۔
![]() | |
| سیف گیمز کا رنگا رنگ اختتام |
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں سوائے مالدیب کے تمام ملکوں نے تمغے جیتے مالدیب کو دوسال قبل اسلام آباد میں بھی کوئی تمغہ نہیں ملا تھا اور اسمرتبہ بھی اس کےکھلاڑی خالی ہاتھ وطن واپس گئے ہیں۔
افغانستان کے کھلاڑیوں نے دوسال قبل اسلام آباد میں ایک گولڈ میڈل کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے اس مرتبہ چھ طلائی تمغے حاصل کیئے۔
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے آخری دن پاکستان نے کراٹے میں دو طلائی تمغے حاصل کرلیئے۔ اس طرح کراٹے میں پاکستان کے حاصل کردہ گولڈ میڈلز کی تعداد پانچ ہوگئی۔
اگر پاکستان کی ان کھلیوں میں مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر کل گولڈ میڈلز کی تعداد کے لحاظ سے بہت اچھا کہا جائے گا لیکن روئنگ اور بیڈمنٹن کی مایوس کن کارکردگی نے گولڈ میڈلز کی نصف سنچری مکمل نہیں ہونے دی۔
پچھلے گیمز میں پاکستان نے ایتھلیٹکس میں پانچ گولڈ میڈلز جیتے تھے اس مرتبہ یہ تعداد صرف تین رہی۔ اسلام آباد میں پاکستان نے نو گولڈ میڈلز باکسنگ میں جیتے تھے اس مرتبہ یہ تمغے سات رہے۔
بیڈمنٹن میں ایک چاندی کا تمغہ اسلام آباد میں پاکستان کو ملا تھا اسمرتبہ یہ بھی نہ ملا۔
روئنگ میں پاکستان نے دوسال قبل چھ گولڈ میڈلز حاصل کئے تھے اس مرتبہ یہ چھ طلائی تمغے مایوس کن کارکردگی کے سبب چاندی کے چھ تمغوں میں تبدیل ہوگئے۔
![]() | |
| اختتامی تقریب بھی خوبصورت رنگ لیئے ہوئے تھی |
اسلام آباد میں پاکستان نے سوئمنگ میں تیرہ چاندی کے تمغے جیتے تھے اس مرتبہ صرف پانچ چاندی کے تمغے اس کے حصے میں آئے۔
پاکستان نے اس مرتبہ جوڈو ووشو کراٹے اور تائی کوانڈو میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔
فٹبال اور اسکواش میں پاکستان نے اپنے اعزاز کا دفاع کامیابی سے کیا اور ہاکی مقابلوں کی ان گیمز میں واپسی کو گولڈ میڈل کے ساتھ یادگار بنایا۔