Thursday, 24 August, 2006, 06:18 GMT 11:18 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
اپنے تیراکوں کی انتہائی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں بھارت کو دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے میڈلز ٹیبل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں بڑی مدد ملی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھٹے دن کھیلوں کے اختتام پر بھارت کے مجموعی66 سونے کے تمغوں میں سے تقریباً نصف تیراکی میں تھے۔
بھارتی تیراکوں نے کولمبو کے سوگاتھا اسٹیڈیم میں ہونے والے سوئمنگ کے پانچ روزہ مقابلوں کو ون کنٹری شو بناکر رکھ دیا۔ انہوں نے تیراکی کے38 میں سے32 ایونٹس میں طلائی تمغے جیت کر اپنی برتری ثابت کردی۔
دوسال قبل اسلام آباد میں بھارت نے سوئمنگ میں31 طلائی تمغے حاصل کئے تھے۔
پاکستانی تیراکوں نے اسلام آباد کی طرح کولمبو میں بھی گولڈ میڈل نہ جیتنے کی روایت برقرار رکھی لیکن کولمبو میں مجموعی کارکردگی اسلام آباد سے بھی زیادہ پست رہی۔ تب پاکستان کے حصے میں چاندی کے13 اور کانسی کے14 تمغے آئے تھے اس مرتبہ پاکستان کے چاندی کے تمغوں کی تعداد صرف5 رہی جبکہ کانسی کے16 تمغے رہے
بنگلہ دیش نے سوئمنگ میں ایک طلائی تمغہ حاصل کرڈالا جبکہ میزبان سری لنکا نے پانچ گولڈ میڈلز جیتے جن میں سے تین مایومی رحیم کے ہیں۔
مردوں کے مقابلوں میں بازی اپنے نام کرنے والے بھارت کے ریحان پونچا رہے جنہوں نے تین گولڈ میڈلز جیتے۔
پاکستان کی خاتون تیراک کرن خان نے اپنی دیگر ساتھی تیراکوں سے اچھی کارکردگی دکھائی اور چاندی کے دو تمغے حاصل کیئے۔ مرد تیراک نثاراحمد نے بھی چاندی کے دو تمغے اپنے نام کیئے۔ چاندی کا پانچواں تمغہ ثناء واحد کے حصے میں آیا۔
اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی رباب رضا توقعات پر پوری اترنے میں ناکام رہیں۔
کولمبو میں موجود پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کے اعلی عہدیداران یہ ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ پاکستانی تیراکوں کی کارکردگی پچھلے ساؤتھ ایشین گیمز کے مقابلے میں خراب رہی بلکہ وہ صرف اسی بات پر خوش تھے کہ ان کے مرد اور خواتین تیراکوں نے اپنے قومی ریکارڈز ان ساؤتھ ایشین گیمز میں بہتر بنائے۔
پاکستان ویمنز سوئمنگ ایسوسی ایشن کی صدر فاطمہ لاکھانی کا کہنا ہے کہ خواتین تیراکوں کی کارکردگی سے وہ بہت خوش ہیں اور انہیں توقع نہیں تھی کہ پاکستانی تیراک تیرہ تمغے جیت جائیں گی۔
فاطمہ لاکھانی کہتی ہیں کہ پاکستان میں پرائویٹ کلبوں میں سوئمنگ ہوتی ہے جہاں پورے سال تیراکوں کی ٹریننگ نہیں ہوسکتی جیسا کہ بھارت اور سری لنکا میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ تیراکوں کی تعلیم کے سبب بھی انہیں طویل عرصے کے لیئے کیمپ میں نہیں بھیجا جاسکتا۔
فاطمہ لاکھانی کا کہنا ہے کہ پچھلے سیف گیمز میں سری لنکا نے اپنے دوسرے درجے کے تیراک پاکستان بھیجے تھے لیکن پاکستان کی شاندار کارکردگی کے بعد انہوں نے بھرپور تیاری کی تھی۔