http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 23 August, 2006, 18:39 GMT 23:39 PST

قمر احمد
لندن

بال ٹیمپرنگ اور قانونی چارہ جوئی

بال ٹیمپرنگ کے حالیہ قضیے میں پاکستان کے کپتان انضمام الحق پر کھیل کے اسپرٹ کو بدنام کرنے اور ٹیم کیخلاف گیند کو کھریدنے کے الزام کے سلسلے میں جو سماعت آنے والے جمہ کو ہونے والی تھی وہ اب یہ کہہ کر غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے کے چیف میچ ریفری سری لنکا کے سابق کپتان رانجن مدوگالے کے قریبی رشتہ دار علیل ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا حقیقت میں یہ صورت حال ہے یا اسے ایک جواز اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ انگلینڈ کے درمیان جو پانچ میچوں کی ایک روزہ سیریز ہونے والی ہے وہ کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے اور انگلینڈ کو بھاری مالی خسارہ جو اس فیصلے سے جو اگر انضمام الحق کے خلاف گیا تو ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بیان آئی سی سی نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔

پاکستان کے کوچ باب ولمر نے یہ بیان دینا شروع کر دیا تھا کہ اگر انکوائری کی رپورٹ پاکستان کے کپتان کیخلاف گئی تو پاکستان کی ٹیم ہو سکتا ہے کے اپنا دورہ ختم کردے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کے یہ جانتے ہوئے کے پاکستان نے اب لندن میں ایک مشہور قانون داں کمپنی ڈی ایل اے پائیپر کی خدمات اپنے دفاع کے لیئے حاصل کر لیں ہیں آئی سی سی نے اپنے امپائیر ڈیرل ہیر کے فیصلے پر دوبارہ نظر رسانی کرنے کیلے کچھ وقت لینے کی کوشش کی ہے۔

آئی سی سی کو یہ بھی معلوم ہے کے انیس سو بانوے میں جب پاکستان انگلینڈ کے دورے پر تھی اور بال ٹیمپرنگ کی کونٹرورسی ہوئی اور لندن کے ایک اخبار نے پاکستان کی کرکٹ اور ٹیم کے خلاف ہتک آمیز مضمون لکھا تو پاکستان کے مینیجر خالد محمود صاحب نے کورٹ میں جب چارہ جوئی کی تو اخبار کو بہت بڑا ہرجانا ادا کرنا پڑا۔

ظاہر ہے کے اس کو اور چند اور مثالوں کو دیکھتے ہوے آئی سی سی اور پاکستان جو بھی قدم اس تنازع میں اٹھاہے گی وہ پھونک پھونک کر اٹھائے گی۔

یہ ضرور لوگ جانتے ہیں کہ امپائیر کا فیصلہ تو یہ کہا جاتا ہے کے فائنل ہوتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کبھی امپایئر کے فیصلے حرف آخر نہیں ہوتے۔