Wednesday, 23 August, 2006, 09:33 GMT 14:33 PST
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کےخلاف آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
آئی سی سی نے انضمام الحق پر اوول ٹیسٹ کے چوتھے روز ٹیم کو میدان میں نہ لانے کی وجہ سے کھیل کو بدنام کرنےاور بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا تھا جس کی باقاعدہ سماعت جمعہ کے روز ہونا تھی۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ نے کہا ہے کہ رانجن مدوگالے کی نجی مصروفیات کی وجہ سے سماعت ملتوی کرنی پڑی ہے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ نے رانجن مدوگالے کی تعیناتی کی خواہش کا اظہار کیا تھا اس لیے آئی سی سی سماعت کو ملتوی کرنے پر رضامند ہوئی ہے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ متبادل ریفری کا تقرر کرنے کا سوچا گیا ہے لیکن رانجن مدوگالے کی بہترین ساکھ کی وجہ سے ان کا تقرر کیا گیا ہے۔
میلکم سپیڈ نے کہا کہ سماعت کی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے اور انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ون ڈے سیریز کی وجہ سے شاید اس دوران سماعت ممکن نہ ہو سکے۔
اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ کہ آئی سی سی کے چیف ریفری رانجن مدوگالے جمعہ کے روز انضمام الحق کے خلاف عائد الزامات کی سماعت نہیں کریں گے۔رانجن مدوگالے سری لنکا میں اپنے خاندان کے کسی فرد کی خرابی صحت کی وجہ سے لندن نہیں پہنچ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ انضمام الحق کے وکیل نے بھی مقدمے کی تیاری کے لیے مزید وقت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
آئی سی سی کے چیف ریفری رانجن مدوگالے نے بتایا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر انضمام الحق کے خلاف آئی سی سی الزامات کی سماعت کے لیے جمعہ کے لندن نہیں پہنچ رہے ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ آئی سی سی الزامات کی سماعت میں دیر کی وجہ سے پاکستان اور انگلینڈ کےدرمیان ون ڈے سیریز شیڈول کے مطابق کھیلی جا سکے گی۔
پاکستان نے کہا تھا کہ اگر انضمام الحق کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر کوئی پابندی لگائی گئی تو شاید وہ ون ڈے سیریز نہ کھیلنے کا فیصلہ کریں۔
انضمام الحق کو جن الزامات کا سامنا ہے اگر وہ ان میں قصور وار قرار دیئے گئے تو ان پر زیادہ سے زیادہ چار ٹیسٹوں اور آٹھ ون ڈے میچوں کی پابندی عائد ہو سکتی ہے۔