Monday, 21 August, 2006, 03:59 GMT 08:59 PST
سابق ممتاز بیٹسمین اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینجر ظہیر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم جانتی تھی کہ وہ جو احتجاج کر رہی ہے اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی عزت کے لیئے احتجاج کیا۔
بی بی سی اردو کے عمر آفریدی اور بی بی سی ہندی کی ارمیلا شیکھاوت سے الگ الگ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ ہو چکا ہے اور ہم سیریز ہار چکے ہیں لیکن ایک روزہ میچوں میں ہم ثابت کریں گے کہ پاکستان کی ٹیم ایک اچھی ٹیم ہے۔
ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ بال ٹیمپرنگ کا الزام 56 اوور ہونے کے بعد لگایا گیا۔ اتنے اوور ہونے کے بعد بال ویسے بھی نشان پڑ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اصل بات یہ تھی کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے بال (فیلڈنگ) کیپٹن کو دکھائی جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اور جب کپتان انضمام امپائر کے پاس گئے تو اس پر بھی انہوں نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہم یہ سارا معاملہ تحریری طور پر آئی سی سی کو دیں گے اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ اس سوال کے جواب میں پاکستان کا احتجاج کس حد تک درست تھا؟ ظہیر عباس نے کہا کہ جب آپ کو ’چیٹ‘ (دھوکے باز) قرار دیا جائے۔ آپ کی بات سنے بغیر آپ پر پانچ رنز کا جرمانہ بھی کر دیا جائے تو آپ کیا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امپائر میچ ریفری مائک پروکٹر سے بات کرتا، بال پاکستانی کپتان کو دکھاتا لیکن بال انضمام کو دکھائے بغیر تبدیل کردی گئی۔ انہوں نے کہا پاکستان کی طرف سے پوری کوشش کی گئی ہے لیکن امپائر ’ڈیرل صاحب‘ بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں۔
ظہیر عباس نے کہا کہ وہ اس وقت کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے ’نارمز‘ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہو لیکن ہم طریقے کے مطابق بعد میں احتجاج کریں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے بتا دیا کہ اسے ڈیرل صاحب قبول نہیں ہیں اور وہ ایک روزہ میچوں میں نہیں ہوں گے‘۔