Monday, 21 August, 2006, 20:25 GMT 01:25 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
پاکستان کی خاتون سکواش کھلاڑی کارلاخان کو دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں شرکت کی اجازت مل گئی ہے اور اب وہ بدھ سے شروع ہونے والے ٹیم ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرسکیں گی۔
کارلاخان کو شہریت کے قواعدضوابط کے اسی اعتراض کی بنیاد پر کامن ویلتھ گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی سے روکا جاچکا ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کارلاخان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کے کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو برطانیہ اور دوسرے ممالک میں مقیم ہیں۔ اگر ان کے پاس دوہری شہریت ہے اور انہوں نے کسی دوسرے ملک کی نمائندگی نہیں کی تو پھر انہیں پاکستان کی نمائندگی کاحق ملنا چاہیئے۔
جنرل عارف حسن نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ نہ جانے کس بنیاد پر کارلاخان کو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرنے دی گئی۔
پاکستان کا موقف |
جنرل عارف حسن نے کہا کہ ساؤتھ ایشین گیمز میں شرکت کے باوجود ایشین گیمز میں کارلاخان کی شرکت یقینی نہیں ہے بلکہ اس کا کیس وہاں ازسر نو پیش کرنا ہوگا خوش قسمتی سے کولمبو میں یہ مسئلہ حل ہوتے وقت اولمپک کونسل آف ایشیا کے سکریٹری جنرل اور چند دیگر ارکان بھی موجود تھے لہذا انہیں امید ہے کہ ایشین گیمز کے لیئے بھی پاکستانی موقف کو تسلیم کرلیا جائے گا۔