Sunday, 13 August, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ سابق اولمپئن منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ ٹیم کی خراب کارکردگی کی تمام ذمہ داری کوچ پر ہی نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ کھلاڑیوں کا احتساب ہونا بھی ضروری ہے۔
منظور جونیئر نے کہا کہ چمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہالینڈ کے ہاتھوں 2-9 کی بد ترین شکست کے ذمہ دار کھلاڑی ہیں کیونکہ پاکستان کی ہاکی کی حالت اتنی خراب نہیں اگر پاکستان کی جانب سے کوئی بے جان پتھر بھی کھڑا کر دیا جاتا تو اتنے زیادہ گول نہ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کو اس معاملے کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے کہ آخر کھلاڑی اپنی صلاحیت کے مطابق کیوں نہیں کھیلے۔
پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم 29 جولائی سے 4 اگست تک سنگا پور میں ہونے والے چار ملکی ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کر کے لوٹی ہے۔
اسی فاتح جونیئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ منظور جونیئرکے مطابق وہ ٹیم کی ٹرینگ کے سبب پُرامید تھے کہ وہ یہ ٹورنامنٹ جیت سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیت بہت اہم چیز ہے اس سے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوا ہے لیکن ہمیں اس جیت کو بھول کر ابھی بہت محنت کرنی ہے تاکہ پاکستان کی ہاکی کا مستقبل بہتر ہو سکے۔
پتھر بھی کھڑا کر دیا جاتا تو |
جونیئر ٹیم کے کوچ نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے روایتی یعنی ایشین سٹائل کی طرح جارحانہ ہاکی کھیلنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سنگا پور میں انہوں نے مشکل حریف بھارت کے خلاف جارحانہ ہاکی کھلائی اور کامیابی حاصل کی۔
منظور جونیئر نے پر زور انداز میں کہا کہ ہم ہاکی میں تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں اگر ہم اپنا روایتی انداز اپنائے رکھیں۔
منظور جونیئر نے کہا کہ ان کا اصل ہدف 2009 میں ہونے والا جونیئر عالمی کپ ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ تب تک بہترین جونیئر ہاکی ٹیم کی تیاری مکمل ہو جائے۔