Wednesday, 02 August, 2006, 15:30 GMT 20:30 PST
راشد لطیف
سابق پاکستانی کپتان
میں باب وولمر کی کوچنگ کا معترف ہوں اور انہوں نے گزشتہ دو سالوں میں عمدہ کوچنگ کی ہے۔
مگر وہ اوپننگ بیٹسمین منتخب کرنے کے معاملے میں درست ثابت نہیں ہوئے حالانکہ انہوں نے اوپننگ بیٹسمین کی بیس مختلف جوڑیاں کو کھلا کر دیکھا ہے۔
عمران فرحت اور سلمان بٹ نے لارڈز کے میچ میں اوپننگ کی۔ مگر دوسرے میچ میں سلمان بٹ کی جگہ وکٹ کیپر کامران اکمل کو لے لیا گیا۔
میرے خیال میں انہیں ایک جوڑی کو چن لینا چاہیے اور آٹھ سے دس میچ کھیلنے کا موقع دینا چاہیے۔
اب ہمارا ایک ٹیسٹ میچ جمعہ کو ہیڈنگلے میں ہونے والا ہے اور ہم اب تک نہیں جانتے کہ اوپننگ کون کرے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان ابھی بھی جم کر جواب دے سکتا ہے کیونکہ ہیڈنگلے کی پچ ہمارے حق میں ہے۔
میرے خیال میں آل راؤنڈر عبدالرزاق کو نہیں کھیلنا چاہیے۔ ہمیں تین تیز باؤلروں کی ضرورت ہے اور میں شاہد نذیر کو ترجیح دونگا جو اچھی لائن اور لینتھ سے بالنگ کرتے ہیں اور سوئنگ پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔
میں لیگ سپنر دانش کنیریا کی باؤلنگ کے انداز سے زیادہ مطمئن نہیں اگرچہ وہ بہت باصلاحیت باؤلر ہیں۔ اصل میں انہیں تنوع اور تجربات کی ضرورت ہے۔ وہ یقیناً یہ سوچتے ہوں گے کہ وہ کیوں زیادہ وکٹیں حاصل نہیں کر پا رہے اور یہ بھی کہ شاید گیند کو ہوا میں زیادہ اچھال دیتے ہیں۔
اس وقت ان کی باؤلنگ ایک سٹاک باؤلر کی طرح بالکل فلیٹ ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں گیند کو شین وارن اور مشتاق احمد کی طرح فلائٹ دینی چاہیے۔ کوئی بیٹسمین بھی فلیٹ گیند کو آسانی سے کھیل سکتا ہے۔
شعیب اختر ابھی سو فیصد فٹ نہیں۔ وہ نیٹ میں باؤلنگ کی پریکٹس کر کے
پانچ یا چھ اوور کھیل سکتے ہیں۔لیکن ایک ٹیسٹ میچ میں فیلڈ میں ہوتے ہوئے ہر روز دوسری یا تیسری باری پر کھیلنا پڑتا ہے جو وہ ابھی نہیں کر سکتے مگر ہو سکتا ہے کہ چوتھے میچ میں کر سکیں۔
سٹیو ہارمیسن نے ثابت کیا ہے کہ وہ کتنا عمدہ کھیل سکتے ہیں۔ اولڈٹریفورڈ میں اسی نے میچ کو جتایا لیکن میں مونٹی پنیسر سے بھی متاثر ہوا ہوں۔ میرے خیال میں اس کا مستقبل روشن ہے وہ پہلے ہی کرکٹ کی دنیا میں بائیں بازو سے کھیلنے والا عمدہ سپنر ہے اور ایک اوور میں وہ تین چار مختلف طرح سے باؤلنگ کرا سکتا ہے۔ اس نے ابھی تک زیادہ وکٹیں پاکستان اور انڈیا کے بہترین کھلاڑیوں کی حاصل کی ہیں ۔
مونٹی پنیسر کی باؤلنگ تو کمال کی ہے۔ وہ دوسرے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کھلاڑیوں سے مختلف ہیں لہذا بیٹسمین کو اسے کھیلنے کے لئے کوئی الگ طریقہ سوچنا ہو گا۔