Saturday, 01 July, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
باکسنگ کے مشہور کھلاڑی محمد علی اب ایک نئے حریف کو شکست دینے کی تیاری کر رہے ہیں اور وہ ہے امریکی بچوں کا موٹاپا۔
محمد علی بیکری کی مصنوعات بنانے والی ایک بہت بڑی کمپنی کے ساتھ اشتراک کر کے کم ’کیلوریز‘ اور نشاستہ والی خوراکیں اور مشروبات متعارف کروا رہے ہیں۔
انیس سو اسی کے بعد امریکہ میں چھ سے انیس سال کے درمیان کے لوگوں میں موٹاپے کی شرح میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
صحت عامہ کے لیئے کام کرنے والوں نے اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مہم میں خوراک کی بنیادی عادات پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں بنائی گئی محمد علی کی ویب سائٹ کا نعرہ ہے کہ ’چیمپئنز کی طرح کھائیے اور بادشاہوں کی طرح چلیے‘۔ اس ویب سائٹ میں کم توانائی کی حامل خوراکوں اور مشروبات کی تشہیر کی جاتی ہے۔
ان کی کمپنی کا نام ’گوٹ فوڈز‘ ہے جو ’تمام وقتوں سے عظیم‘ کا مخفف ہے۔ کمپنی اگلے سال کے شروع تک دکانوں میں اپنے ’سنیکس‘ متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
محمد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ان اصولوں کو نئی نسل تک پہنچایا جائے جنہوں نے مجھے فاتح بنایا تاکہ ہم انہیں بھی فاتح بنا سکیں‘۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ چونسٹھ سالہ محمد علی جو رعشہ کے مریض بھی ہیں اس منصوبے میں کس حد تک عملی طور پر شریک ہیں۔
نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کی چوتھی بیوی لونی نے کہا ہے کہ محمد علی نوجوانوں میں موٹاپے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ محمد کر رہے ہیں اس کی وجہ سے انہیں یاد رکھا جائے گا۔محمد کہتے ہیں کہ ہم سب کو بڑھ چڑھ کر اچھائی کرنی چاہیئے‘۔
امریکہ کی موٹاپے کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ ’گوٹ فوڈ‘ کا بنیادی خیال اچھا لگ رہا ہے۔ تاہم تنظیم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مورگن ڈؤنی نے نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک یہ حقیقت میں ’کیلوریز‘ کا استعمال کم نہیں کرتی وزن کم کرنے کے لیئے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘۔
اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں چھ سے گیارہ سال کی عمر کے تقریباً تیس اعشاریہ تین فیصد بچوں کا وزن زیادہ ہے اور پندرہ اعشاریہ تین فیصد موٹے ہیں۔
محمد علی نے دو ماہ قبل اپنے نام اور امیج کو پانچ کروڑ ڈالر کے عوض استعمال کے لیئے بیچ دیا۔ خوراک کے متعلق یہ مہم اس سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔