Sunday, 25 June, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
عالمی فٹبال مقابلوں کے دوسرے مرحلے میں پرتگال نے ہالینڈ کو ایک گول سے شکست دے دی ہے۔ اس طرح اب پرتگال عالمی کپ کی آٹھ ٹیموں میں شامل ہو گیا ہے۔
اب پرتگال کا مقابلہ سنیچر کو انگلینڈ سے ہو گا۔
اس سے قبل انگلینڈ بھی ایکواڈور کو ایک صفر سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا تھا۔
ہالینڈ اور پرتگال کے درمیان میچ بہت جارحانہ رہا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑی کئی مرتبہ ایک دوسرے کے ساتھ الجھے۔
دونوں ٹیموں آخر میں نو نو کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کیونکہ اس میچ میں کھلاڑیوں کی بکنگ کا ریکارڈ برابر ہوا اور ریڈ کارڈ دکھانے کا نیا عالمی ریکارڈ بنا۔
ہالینڈ اور پرتگال کے درمیان ہونے والے اس کھیل میں کھلاڑیوں کو چار ریڈ کارڈ اور سولہ پیلے کارڈ دکھائے گئے۔
پرتگال کے نو کھلاڑیوں کو پیلے کارڈ دکھائے گئے جبکہ یہ کارڈ ہالینڈ کے سات کھلاڑیوں کو ملے۔ پرتگال کی طرف سے ڈیکو اور کوسنہا کو ریڈ کارڈ دکھائے گئے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے یہ کارڈ خالد بولہروز اور جیو وین بروکنہورسٹ کو ملے۔
میچ کا واحد گول پرتگال کے مانیشے نے کھیل کے تئیسویں منٹ میں کیا۔
ہالینڈ کی ٹیم: وین ڈیر سار، وین بروکنہورسٹ، ماتیسن، اوئیر، خالد بولہروز، کوکو، سنائیڈر، وین بومل، رابن، کویٹ، وین پیرسی۔
![]() | |
| ڈیوڈ بیکہم اپنے ساتھی کھلاریوں کے ساتھ خوشی منا رہے ہیں |
اس طرح ڈیوڈ بیکہم پہلے انگلینڈ کے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے گزشتہ بارہ سال میں ہونے والے تین عالمی کپ مقابلوں میں متواتر گول کیئے ہیں۔
بیکہم نے تیس گز کی دوری سے ایک خوبصورت کک لگا کر گول کیا اور انگلینڈ کو فتح دلوائی۔ تاہم انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیئے بہت محنت کرنا پڑی اور ایک موقع پر تو ایکواڈور کے کھلاڑی نے ایک یقینی موقع ضائع کر دیا۔
دوسرے مرحلے کے پہلے دن کے مقابلوں کے بعد ارجنٹینا اور جرمنی پہلے ہی کوارٹر فائنل میں پہنچ چکے ہیں جہاں یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
مقابلے سے پہلے ایکواڈور کے کوچ لویز فرنانڈو نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم انگلینڈ کو ہرا سکتی ہے بشرطیکہ وہ وین روُنی کو اچھا کھیل کھیلنے کا موقع نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ روُنی کسی بھی لمحے مقابلے کا پانسا پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایکواڈور کے کوچ نے کہا تھا کہ عالمی کپ کے مقابلوں میں وہ انگلینڈ کی اب تک کی کارکردگی سے متاثر نہیں ہیں لیکن ان میں بہتری کی صلاحیت موجود ہے۔
انگلینڈ کے کوچ سوین گوران ایرکسن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے لیئے اس سال عالمی ٹورنامنٹ جیتنے کا بہترین موقع ہے۔