Saturday, 10 June, 2006, 15:53 GMT 20:53 PST
فٹبال کے عالمی کپ کے گروپ جی میں شامل افریقی ملک ٹوگو کی ٹیم کی تیاریاں اس وقت مشکلات کا شکار ہوگئیں جب ان کے کوچ اوٹو فسٹر نے کھلاڑیوں کی تنخواہ کے معاملے پر استعفٰی دے دیا۔
فسٹر کو مارچ میں کوچ کے عہدے کے لیئے منتخب کیا گیا تھا اور وہ اپنے استعفے کا ذمہ دار ٹوگو کی فٹبال ایسوسی ایشن کو ٹھہراتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ’ جب میں نے بطور مینیجر کام شروع کیا تو مجھ سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ کھلاڑیوں کے بونس کا معاملہ نمٹا لیا جائے گا۔ اب تک کچھ نہیں ہوا اس لیئے میں نے فوری طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے میرا دیرینہ خواب توڑ دیا‘۔
فسٹر کے استعفے کے بعد ان کے سابقہ نائب کوڈجووی ماؤینا تیرہ جون کو جنوبی کوریا کے خلاف میچ کے دوران ٹیم کی نگرانی کریں گے جبکہ ٹوگو کے وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیئے ذاتی طور پر جرمنی جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
فسٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ’میں واپس نہیں جا رہا تاہم بطور قومی کوچ اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہو رہا ہوں۔ کھلاڑیوں نے بونس کے معاملے پر تربیتی سیشن کا بائیکاٹ کیا اور میرے عہدے کا مقصد ہی ختم ہو گیا‘۔
فیفا کے اہلکار مارکس زلگر کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں اب تک فسٹر کے استعفے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں لیکن اس موقع پر کوچ کی تبدیلی کوئی مشکل کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ کھلاڑیوں کی تبدیلی کے قوانین سب پر واضح ہیں لیکن کوچ کی تبدیلی کے معاملے میں وہ قوانین لاگو نہیں ہوتے‘۔
پہلی مرتبہ عالمی کپ میں شریک ٹوگو کے گروپ میں سوئٹزرلینڈ، فرانس اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی درجہ بندی کے مطابق ٹوگو عالمی فٹبال کپ میں شریک ٹیموں میں سب سے نچلے درجے کی ٹیم ہے۔