http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 03 June, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاک وومن ہاکی ٹیم ملائیشیا روانہ

پاکستان کی اٹھارہ رکنی خواتین کی ہاکی ٹیم جمعہ کے روز ملائیشیا کے شہر کوالا لمپور روانہ ہوئی جہاں وہ ایشیائی گیمز کے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ
میں شرکت کرے گی۔

پانچ سے بارہ جون تک ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان ، سری لنکا، ایران، ہانگ کانگ ، چینی، تائپے اور میزبان ملائشیا کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔
اس ٹورنامنٹ میں پہلی چار پوزیشنیں حاصل کرنے والی ٹیمیں دوہا میں ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت کرنے کی اہل ہوں گی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے شعبہ خواتین نے سات ہفتوں کا تربیتی کیمپ لاہور میں لگایا تاکہ کھلاڑی خواتین کی اس ٹورنامنٹ کے لیئے تربیت کی جا سکے۔
دس اپریل سے شروع ہونے والے اس تربیتی کیمپ کی ذمہ داری پاکستان کی ٹیم کے سابق چیمپئن ناصر علی کے ذمہ تھی۔

ناصر علی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ان لڑکیوں کی تربیت کا آغاز کیا تو ان کی جسمانی فٹنس بہت بری حالت میں تھی اور انہیں ہاکی کی بنیادی تکنیک کا بھی علم نہیں تھا۔
ہاکی ٹیم
رضیہ ملک نے امید ظاہر کی کہ وہ ایشین گیمز کے لیئے کوالیفائی کر لیں گی

کیمپ کے پہلے مہینے میں ناصر علی نے ان خواتین کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس پر کام کیا اور دوسرے ماہ میں انہیں ہاکی کھیلنے کی تکنیک سکھائی گئی۔

ناصر علی نے کہا کہ اس وقت ٹیم کافی بہتر ہے۔ فٹنس میں بھی بہتری آئی ہے اور ہاکی کی مہارت میں بھی قدرے اضافہ ہوا ہے۔ اس لیئے اس ٹیم سے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ملائیشیا میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

ٹیم کی کپتان رضیہ ملک جو ٹیم کی سب سے سینئرکھلاڑی ہیں، انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ کیمپ سے پہلے ان کی ساتھی کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس کافی بری تھی لیکن اب بہتری آئی ہے۔

رضیہ ملک نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیاں کالج میں آنے کے بعد ہاکی کا کھیل شروع کرتی ہیں اسی لیئے ہماری ٹیم کی لڑکیوں کی عمریں بیس سے تیس سال تک ہیں جبکہ ہمارا مقابلہ ان ممالک کی ٹیموں کے ساتھ ہے جن میں لڑکیاں سکولوں ہی میں کھیلنے کا آغاز کر دیتی ہیں اس لیے ان کی مہارت بھی ہم سے بہتر ہوتی ہے۔
ہاکی ٹیم
ہماری ٹیم میں اتحاد ہے اور ہمیں اپنی محنت پر یقین ہے: نائب کپتان

رضیہ ملک نے امید ظاہر کی کہ وہ ایشین گیمز کے لیئے کوالیفائی کر لیں گی کیونکہ انہوں نے کیمپ میں کافی سخت تربیت کی ہے۔

پاکستان کی ٹیم کی نائب کپتان صائمہ افضل نے کہا کہ اگر چہ ہماری حریف ٹیمیں بین الاقوامی معیار کے اعتبار سے ہم سے بہتر ہیں لیکن ہماری ٹیم میں اتحاد ہے اور ہمیں اپنی محنت پر یقین ہے اور اسی یقین کی بنیاد پر ہمیں امید ہے کہ ہم ایشین گمیز کے لیے کوالیفائی کر لیں گے۔

اگر یہ وعدے اور امیدیں سچ ثابت ہوئیں اور پاستان کی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کے لیے کوالیفائی کر لیا تو یہ ٹیم ایک تاریخ رقم کرے گی کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ پاکستان کی وومین ہاکی ٹیم ایشین گیمز تک پہنچے گی۔