Monday, 22 May, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
انٹرنیشنل فیڈریشن آف فٹبال کا ایک تین رکنی وفد پاکستان ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔ یہ وفد پاکستان میں وومن فٹبال کی ترقی اور سرگرمیوں پر ایک دستاویزی فلم بنا رہا ہے۔
فٹبال کے عالمی ادارے فیفا کی اس تین رکنی ٹیم میں فیفا کے ڈویلپمنٹ مینیجر، دستاویزی فلم کی انچارج لیسلی لٹل اور ایک کیمرہ پرسن سوسن بارٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے اس دورے میں انہوں نے کراچی میں کچھ فٹبالر خواتین کے گھر جا کر ان کے والدین سے انٹرویو کیا۔ ’ان کھلاڑی خواتین کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور ہم نے دیکھا کہ فٹبال کھیلنے اور اس کی تربیت کے لیئے ان خواتین کو کافی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے‘۔
محسن گیلانی نے کہا کہ مسلمان ممالک میں خواتین کو کھیلوں میں آنے کے لیئے جن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے لیئے مختلف کھلاڑیوں سے بھی انٹرویو کیے جا رہے ہیں۔
محسن گیلانی نے کہا کہ اس فلم کے لیئے آٹھ مسلم ممالک کو چنا گیا ہے اور یہ فلم ورلڈ کپ کے دوران دکھائی جائے گی۔
اس ٹیم نے اپنے کام کے پہلے مرحلے میں اکیس مئی کو کراچی میں سندھ کی وومین فٹ بال اسوسی ایشن کی سیکرٹری سعدیہ شیخ سے ملاقات کی۔ سعدیہ شیخ نے فلم بنانے کے لیئے ایک وومن فٹبال میچ کا انعقاد کیا تھا۔
اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں یہ وفد پیر کو اسلام آباد میں خاتون اول بیگم صہبا مشرف سےانٹرویو کرے گا اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر وفاقی وزیر برائے ماحولیات فیصل صالح حیات سے بھی ملاقات کرے گا۔
اس موقع پر دینا شریف جو کہ 11 سے پندرہ مئی کو اردن میں ہونے والے وومن فسٹل فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی پاکستان ٹیم کی مینجر ہیں اس دورے سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔ یاد رہے کہ اپنے اس پہلے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ٹیم نے حریف ٹیموں سے پندرہ سترہ اور بائیس بائیس گولوں سے مات کھائی تھی۔
اس فیفا ٹیم کے لیئے ایک انڈور میچ پنجاب کی وومن فٹبال ٹیم اور واپڈا کی فٹبال ٹیم کے درمیان 24 مئی کو واپڈا سپورٹس کمپلکس میں منعقد کیا جائے گا اور یہ ٹیم اس میچ کو عکسبند کرکے اپنا تین روزہ دورہ مکمل کرلے گی۔
پاکستان میں وومن فٹ بال کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور گزشتہ برس پاکستان میں پہلی قومی فٹبال چیمپئن شپ منعقد کی گئی تھی۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن نے گراس روٹ پر لڑکیوں میں اس کھیل کو متعارف کروانے اور وومن فٹبال کی ترقی کے لیئے سکولوں اور کالجوں میں وومن فٹبال ٹیمیں بنانے کے بجائے ناتجربہ کار ٹیم کو اردن بین الاقوامی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیئے بھجوادیا تھا جس کا نتیجہ بری ترین شکست کی صورت میں نکلا۔